
Wednesday, June 11, 2008
رشتے میں تو ہم تمہارے باپ ہوتے ہیں
بالی وڈ کے بادشاہ شاہ رخ خان ہیں یا اکشے کمار، اس موضوع پر آج کل بہت بحث چل رہی ہے۔ ہر دوسرے فلمی رسالے میں یا تو اکشے یا پھر شاہ رخ خان کی کھینچاتانی ہورہی ہوتی ہے، یہ فیصلہ کرنے کیلئے کہ اس تخت کا اصلی حقدار کون ہے؟ اب اگر ہم لکھ دیں گے کہ اکشے بالی وڈ کے بادشاہ ہیں تو یقیناً ہمارے پڑھنے والوں میں سے آدھے لوگ ہمارا کالم پڑھنا چھوڑ دیں گے، یعنی بادشاہ کی بحث میں پڑھنا نقصان کا کام ہے اس لئے بات کرتے ہیں بالی وڈ کی۔ اس شاہی گدی کی جس میں کسی بحث کا امکان نہیں ہے، یعنی بالی وڈ کے شہنشاہ کی....امیتابھ بچن بالی وڈ کے شہنشاہ ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں، وجہ لمبی ٹانگیں نہیں لیکن اس شہنشاہ کی گدی پر سے اتارنے کیلئے انکی ٹانگ کوئی نہیں کھینچ سکتا، وہ خود بھی نہیں۔ آج ہر دوسرے ہفتے امیتابھ اپنی سی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ انہوں نے جو نام کمایا اسے مٹی میں ملا دیں۔ ہر دوسرے ہفتے انکی نئی فلم آجاتی ہے جس میں وہ کیا، کیسے اور کیوں کررہے ہیں، سمجھ میں نہیں آتا۔ امیتابھ کو ہر فلم میں نظر آنے کا اتنا شوق ہے کہ آج انڈیا سے یہاں فلائٹس کم اور امیتابھ کی فلمیں زیادہ آرہی ہیں۔ ان حرکتوں کے باوجود امیتابھ بالی وڈ کے بے تاج شہنشاہ ہیں۔11 اکتوبر 1942ءکو الٰہ آباد میں پیدا ہونیوالے امیتابھ بچن جنہوں نے لیور برادرز میں نوکری نہ ملنے کی وجہ سے بمبئی جاکر ہندی فلموں میں اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا، 1969ءسے 1973ءتک 11 فلاپ فلمیں دے چکے تھے۔ 1973ءکی فلم ”زنجیر“ سے اوپر چڑھنے والے امیتابھ بچن نے پھر اپنی زندگی میں نیچے نہیں دیکھا۔ وقت جیسا بھی تھا، امیتابھ نے اس سے لڑ کر اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کی۔ اپنے کیرئیر کی بلندی پر 1982ءمیں فلم ”قلی“ کی شوٹنگ کے دوران بری طرح زخمی ہونے کی وجہ سے امیتابھ کئی مہینے ہسپتال میں رہے۔ وہ اس قدر خطرناک وقت سے گزرے کہ ایک بار کچھ لمحوں کیلئے ڈاکٹرز نے انہیں مردہ قرار دیدیا تھا لیکن امیتابھ نے ہار نہیں مانی۔ پیٹ میں چوٹ کی وجہ سے گوشت، مٹھائی، شراب سب چھوڑنے پڑے لیکن امیتابھ نے کامیابی کو شومئی قسمت رس ملائی کی نذر نہیں کیا۔”میرے پاس بلڈنگیں ہیں، پراپرٹی ہے“ سے لیکر ”جمعے کے وعدے“ تک اور پھر ”شاوا شاوا“ کرتے ان کا دل جوان تھا اس لئے ہر دور میں امیتابھ وہ کرتے ہوئے نظر آئے جو اس دور کے نوجوان کررہے تھے۔ فلم ”شعلے“ بنتے وقت ورزش کرتے دھرمیندر کا مذاق اڑاتے امیتابھ آج خود صبح پانچ بجے اٹھ کر جم جاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ دوڑ میں جیتنے کیلئے دوسرے کھلاڑیوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ آج کے فلمی ستارے فلم انسٹیٹیوٹ میں نہیں، جم میں تیار ہورہے ہیں۔ پھر امیتابھ کیوں ان سے پیچھے رہیں۔ جم تک تو سب ٹھیک تھا، اب مسئلہ یہ ہے کہ امیتابھ مزید وہ کام کرنا چاہتے ہیں جو آج کل کے نوجوان کررہے ہیں۔نوجوان آج کل انٹرنیٹ پر اپنا پروفائل بناتے ہیں، یعنی ایسی ویب سائٹ جہاں اپنے بارے میں لکھتے ہیں، اپنی تصویریں لگاتے ہیں۔ اسکے علاوہ وہاں انکے دوست وغیرہ اپنے تاثرات لکھتے ہیں۔ اس طرح کے پروفائل بنانے کے مختلف طریقے ہیں جیسے ”Blog“ Blog کا مطلب آسان الفاظ میں انٹرنیٹ پر آپ کی وہ ڈائری ہے جو سب پڑھ سکتے ہیں۔ امیتابھ کو شاید کسی نے یہ بتا دیا کہ آج کل نوجوان ہونے کیلئے انٹرنیٹ پر اپنا پروفائل بنانا بہت ضروری ہے۔امیتابھ وہ پہلے بالی وڈ ایکٹر ہیں جنہوں نے اپنا Blog انٹرنیٹ پر بنایا۔ آج امیتابھ دوسرے کروڑوں دنیا کے نوجوانوں کے بیچ واحد بالی وڈ ایکٹر ہیں جن کی ڈائری اب انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ امیتابھ ہر تھوڑی دیر بعد اپنے Blog پر وہ کیا کررہے ہیں، پوری دنیا کو بتاتے ہیں جیسے ابھی میں سو کر اٹھا ہوں، ابھی میں کھانا کھا رہا ہوں، ابھی شوٹنگ پر جا رہا ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ امیتابھ سے کوئی بھی کچھ بھی بات کرتا ہے تو امیتابھ وہ سب فوراً اس Blog پر بتا دیتے ہیں۔ ایک صحافی جیسے ہی امیتابھ سے انٹرویو لیکر گئے، امیتابھ نے فوراً ہی وہ انٹرویو اپنے Blog پر ڈال دیا اور تھوڑی دیر میں وہ انٹرویو معذرت کے ساتھ یہ کہتے ہٹایا کہ صحافی کو یہ حرکت اچھی نہیں لگی۔امیتابھ کی ہر ادا ہم کو پسند ہے۔ یہ سٹائل جو امیتابھ کا تھا، ایسا لگا یہ سٹائل ہمارا بھی ہونا چاہئے۔ ہم مانتے ہیں کہ امیتابھ بالی وڈ کے رشتے میں باپ ہوتے ہیں لیکن اپنی ذاتی زندگی ہر آدھے گھنٹے بعد پوری دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دینا؟ یہ ادا ہمیں کچھ سمجھ میں نہیں آئی۔ اتنے بڑے سٹار کو پوری دنیا کو اپنی ہر تفصیل بتا دینا زیب نہیں دیتا۔امیتابھ کےخلاف کوئی بھی بات کرنا ہمیں اچھا نہیں لگتا مگر جلدی سے آپ سے کردی یہ جانتے ہوئے کہ یہ بات امیتابھ تک نہیں پہنچے گی کیونکہ وہ ابھی ابھی Blog پر لکھ کر سونے گئے ہیں۔٭٭٭
Thursday, June 5, 2008
Phone Kartay Rahana
بار بار فون کا بجنا اور ہر بار ہمارا سٹائل سے ہیلو بولتے فون اٹھانا۔ جاپانیوں نے بہت محنت سے موبائل فون بنایا پھر کئی ارب خرچ کر کے اسے ہمارے ہاتھوں تک پہنچایا لیکن ہر بار فون بجنے پر ہماری خوشی کا باعث ہوتی وہ پاکستانی فون کمپنی جو ہمیں صرف سو روپے میں پورے مہینے فون استعمال کرنے دیتی وہ بھی مفت Incoming کے ساتھ۔ فری ان کمنگ کی ہم نے عادت تو فوراً ڈال لی اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہمیں آﺅٹ گوئنگ کال کرنی ہو تو پھر پیسے کیسے بچائیں یہاں کام آئی کالر آئی ڈی اور سینڈ اینڈ کے بٹن کا قریب ہونا۔ آﺅٹ گوئنگ کال کے ملتے ہی پہلی گھنٹی پر فون بند کر دینا اور پھر جس کے فون پر گھنٹی بجی ہو اسکا فون آ جانا یار تم نے فون کیا تھا؟ اسی طرح ہم جاپانیوں کی سائنس کو پاکستانیوں کے آرٹ سے ملا کر ہم کم سے کم پیسوں میں فون استعمال کرتے۔ پھر آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے یعنی ہمارا امریکہ کا ویزا لگ گیا اور جلدی ہماری روانگی.... گھر والے، پڑوسی، دوست، انکے دوست قریب سے لے کر دور اور بہت دور دور کے رشتے داروں کو اب ہم سے ایک ہی امید اور وہ یہ کہ جاتے ہی ہم کو بھول نہیں جانا فون کرتے رہنا۔ آدھے سے زیادہ وہ لوگ جن کو ہم پاکستان میں رہتے ہوئے یاد نہیں رکھتے تھے۔ اب ہمیں وعدہ کرنے پر مجبور کر رہے تھے کہ امریکہ جا کے ہم انہیں بھول نہیں جائیں گے۔ دیکھئے اگر آپ پاکستان سے چین فون کریں اور فون اٹھاتے ہی کوئی چینی بولنے لگے تو آپ یہ سوچ کر اطمینان سے فون رکھ دیں گے کہ چینی تو ہمیں آتی نہیں اور نہ ہی آنے کی ضرورت ہے لیکن امریکہ فون کریں اور دوسری طرف سے آپریٹر فون اٹھاتے ہی ”اے فار ایپل“ کرنے لگے تو بین الاقوامی سطح پر یہ بتانا کہ پاکستانی کو انگریزی نہیں آتی انتہائی شرمندگی کی بات ہو گی اس لئے نہ فون کرو نہ ہی شرمندگی کا سامنا کرو۔ امریکہ بہت دور ہے جانے سے پہلے رشتے دار آپ کو رو رو کر بتاتے ہیں اور جانے کے بعد فون نہ کر کے۔ امریکہ میں ہر بزنس کا سب سے پہلا اصول ہوتا ہے کہ گاہک ہمیشہ صحیح ہوتا ہے.... غلط.... ایک بزنس کو چھوڑ کر وہ ہے فون کارڈ کا بزنس یہاں گاہک ہمیشہ غلط ہوتا ہے۔ امریکہ آ کر پتہ چلا کہ پاکستان فون کرنے کے لئے زیادہ تر یہاں کالنگ کارڈ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پانچ ڈالر کا کارڈ کسی بھی دیسی دکان سے خریدیں اور پیچھے دئیے فون نمبر کو ملا کر کارڈ پر لکھی پن ڈالیں اور تیس یا چالیس منٹ پاکستان بات کیجئے۔ چلئے کال کرنے کا طریقہ تو ہم نے آسانی سے آپ کو سمجھا دیا اب اس کارڈ سے مشکل سے ملنے والی کال کی مزید مشکلات کی بات کرتے ہیں۔ ہر بار خریدنے پر اس کارڈ کا نام کیوں بدل جاتا ہے کبھی سمجھ میں نہیں آیا یعنی کبھی پاکستان زندہ باد کبھی ہیلو پاکستان، کبھی ٹاک پاکستان تو کبھی واک پاکستان۔ جو لفظ پاکستان کے ساتھ لگ سکتا تھا اس کارڈ پر لگا دیا گیا جو اس کالنگ کارڈ سے نہیں لگتا ہے وہ ہے پاکستان فون پہلی بار فون ملانے پر انگریزی میں آواز آئی کہ آپ کے پاس بات کرنے کے چالیس منٹ ہیں پھر لمبی خاموشی پھر فون ملائیں تو آواز آتی ہے اب آپ کے پاس اٹھارہ منٹ ہیں۔ یہ بات کبھی سمجھ میں نہیں آ پائی کہ اس دو منٹ کی خاموش نے ایسا کیا کر دیا کہ ہم سے بائیس منٹ چھین لئے گئے۔ کارڈ پر اوپر مسکراتی خاتون کی تصویر جس پر نیچے ”Call now“ لکھا تھا پر یقین کر کے دو تین بار فون ملانے پر پورا کارڈ خاموشی کی نذر ہو جاتا۔ اب اگر غلطی سے ہم دکاندار سے جا کر یہ کہہ دیں کہ یہ کارڈ نہیں چلا تو وہ ہم پہ ایسے غصہ ہوتا جیسے وہ امیگریشن آفیسر ہو اور ہمارا ویزا کئی مہینے پہلے ایکسپائر ہو چکا ہے۔ کئی سال کارڈ کی لات کھانے کے بعد آخر ہم کو ایک ایسی کمپنی مل گئی جو ہم کو پانچ سینٹ فی منٹ کال کرنے کی سہولت ہمارے گھر کے فون سے کرنے دے گی وہ بھی بغیر کسی پن کے۔ پچھلے مہینے اس پلان پر سائن اپ کرتے ہی زندگی آسان لگنے لگی۔ ہر ہفتے کئی بیکار کارڈز اور کئی ناراض رشتے داروں کا سامنا ہم کو نہیں کرنا پڑے گا۔ اب ہم اپنے ”امریکہ سے فون کروں گا“ والی باتیں پوری کر پائیں گے اور یہ کارڈ جو روز نام کام اور دام بدلتے ہیں ان کو ہم کبھی نہیں خریدیں گے یہی سب سوچتے ہی شیخ چلی کے سارے انڈے ٹوٹ گئے۔ پہلی مئی 2008ءسے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بیرون ملک سے پاکستان کال آنے کا اپرووڈ سیٹلمنٹ ریٹ سو فیصد بڑھا دیا ہے۔ ان کے حساب سے لوگ پاکستان بہت زیادہ فون کرنے لگے ہیں اور زیادہ کالز کی ٹریفک سنبھالنے کے لئے آپریٹرز کی تنخواہیں بڑھانی پڑیں گی۔ دوسرے ہر سال پچاس ملین کی کالز پاکستان چوری سے کی جاتی ہیں جسکا جرمانہ اب پاکستان ٹیلی کام ہم سے یہ ریٹ بڑھا کر وصول کرے گا۔ سنا ہے جلدی ہی یہ ریٹ ڈھائی سو فیصد بڑھ جائے گا۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہوتا ہے اور شاید ہمیں پھر سہارا فون کارڈز کا ہی لینا پڑے گا جو کم سے کم چالیس منٹ میں فون کالز کی امید تو دیتا ہے اگر آپ کو کسی اچھے کالنگ کارڈ کا نام پتہ ہے جس سے آجکل کال مل جاتی ہے تو ہمیں ضرور بتائیے گا۔
Subscribe to:
Posts (Atom)