
Monday, December 15, 2008
Friday, November 21, 2008
Tuesday, November 11, 2008
Wednesday, November 5, 2008
Tuesday, November 4, 2008
Tuesday, October 28, 2008
Tuesday, October 21, 2008
Monday, September 22, 2008
Wednesday, September 10, 2008
Monday, August 25, 2008
Lights, Camera, Action...
کراچی کے علاقے صدر میں ایک مارکیٹ ہے جو رینبو سینٹر کے نام سے مشہور ہے اس مارکیٹ کی خاصیت یہ ہے کہ وہاں دنیا کی سب سے زیادہ فلموں کی بغیر لائسنس کے کاپیاں یعنی ڈی وی ڈی بنا کر فروخت کی جاتی ہیں۔ انڈیا میں بننے والی ہندی فلموں کی چھ ملین سے زیادہ پائریڈڈ کاپیاں بنا کر 2007ءمیں رینبو سینٹر کی چھوٹی سی چار منزلہ بلڈنگ نے ساری دنیا کی پائریسی کا ریکارڈ توڑ دیا۔ سب جانتے ہیں کہ ہم نے 1947ءمیں انڈیا کو چھوڑ دیا لیکن کسی بھی دن اگر آپ اس بلڈنگ کے اندر جا کر دیکھیں تو یقین آ جائے گا کہ ہم نے انڈیا کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ہندوستان میں فلمیں بہت لمبے عرصے میں بنتی ہیں یہاں تک کہ فلم پاکیزہ سولہ سال کے عرصے میں بنی۔ عام حالات میں ایک فلم کی شوٹنگ تین مہینے اور اسے نکھارنے‘ سنوارنے میں چھ سے نو مہینے لگتے ہیں پھر پیسہ پانی کی طرح بہاتے ہیں کبھی پچاس کروڑ تو کبھی سو کروڑ ایک فلم کو بنانے میں خرچ کیے جاتے ہیں۔ اوپر سے سینکڑوں لوگوں کی جی توڑ محنت۔ اتنا سب ہندوستان والے اس لیے کرتے ہیں تاکہ وہ فلم ریلیز ہوتے ہی ہمارے رینبو سینٹر میں بیٹھے بھائی لوگ تین گھنٹے میں اس فلم کی لاکھوں کاپیاں بنا کر پوری دنیا میں پھیلا دیں۔رینبو سینٹر میں داخل ہوتے ہی لگتا ہے کہ پوری انڈین فلم انڈسٹری آپ کے سامنے آ کر کھڑی ہوگئی ہے چھوٹی چھوٹی دکانیں جن میں ہزاروں ڈی وی ڈی رکھی ہیں۔ ساتھ میں ہر دکان میں تین سے چار ٹی وی اسکرین جن پہ مختلف فلمیں چل رہی ہوتی ہیں۔چاروں طرف بڑے بڑے اداکاروں کے پوسٹرز۔ کہیں امتیابھ کھڑے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ”جہاں سے ہم کھڑے ہو جائیں لائن وہیں سے شروع ہوتی ہے“ تو کہیں کسی پوسٹر پہ شاہ رخ خان کو کچھ کچھ ہو رہا ہوتا ہے یا پھر سامنے دیوار پہ لگی مادھوری ہم سے کہہ رہی ہوتی ہے۔ آجا پیا آئی بہار۔ چاروں طرف نظریں گھمانے سے کسی دکان میں لگے اسکرین پر کتھک ڈانس ہوتا ہوا نظر آ رہا ہوتا ہے تو کہیں سے مندر کی گھنٹی کی آواز آ رہی ہوتی ہے تو کہیں سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ہو رہا ہوتا ہے یہ سب دیکھ کر دل کرتا ہے کہ انڈیا میں رہنے والوں کو ہم دعوت دیں کہ اگر اصلی انڈیا دیکھنا ہے تو کسی دن رینبو سینٹر کا چکر لگاﺅ۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کراچی میں انڈین فلموں کی اتنی بڑی مارکیٹ کیوں ہے؟ تو اس کا آسان سا جواب ہے کہ مارکیٹ ہمیشہ ڈیمانڈ کی وجہ سے بنتی ہے جبکہ پچھلے کئی سالوں سے ہندوستانی فلمیں پاکستان میں غیرقانونی تھیں اس کے باوجود اس مارکیٹ نے دم نہیں توڑا وجہ سرف سے دھلی بالکل صاف ہے یعنی پاکستان میں رہنے والوں کو فلمیں دیکھنے کا بہت شوق ہے۔ جب بھی پاکستان انڈیا کے حالات خراب ہوتے شامت بیچاری اس مارکیٹ کی آ جاتی یعنی کشمیر میں جب کبھی ہندوستانی فوجی گولہ باری کرتے اگلے دن پولیس کراچی میں آکے رینبو سینٹر میں پاکستانی دکانداروں کی دکانوں میں چھاپے مار کر ہندوستان سے بدلہ لیتی۔رینبو سینٹر والوں نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں وہ راتوں رات ساری ہندوستانی فلمیں غائب کر دیتے پوسٹر نکال لیتے اور ایک رات میں ہی وہاں کے ہندوستانی نقشے کو بدل کر پاکستانی کر دیتے یعنی چاروں طرف دیکھنے سے صرف آپ کو اب پاکستانی ڈراموں کی اور بچوں کے کارٹونوں کی ڈی وی ڈی نظر آتی ہیں۔ پھر تھوڑی دیر میں سب کشل منگل ہو جاتا یعنی سب ٹھیک ٹھاک جس کے بعد پھر سے امیتابھ اور شاہ رخ خان پوری مارکیٹ میں جگہ جگہ ناچتے گاتے نظر آنے لگتے۔رینبو سینٹر نے صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ڈی وی ڈی کی کاپیاں بنا بنا کر پوری دنیا میں پھیلا دیں۔ ہر سال کروڑوں ڈی وی ڈی پوری دنیا میں یہاں سے برآمد کی جاتی ہیں ایسی جگہیں جہاں شاید کبھی کوئی ہندوستانی گیا بھی نہ ہو۔ رینبو سینٹر نے وہاں تک ہندوستانی فلموں کو پہنچا دیا آج سب اکشے کمار کو کھلاڑی اور شاہ رخ خان کو بازی گر مانتے ہیں کیونکہ لوگوں کے مطابق ان دونوں نے بالی وڈ کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا ہے لیکن یہ کام رینبو سینٹر والے اصل میں ان راتوں میں جاگ کر کر رہے ہوتے ہیں جب یہ ہیرو لمبی تان کر سو رہے ہوتے ہیں یعنی گھر گھر ان کے ٹیلنٹ کو پہنچانے کا سہرا ہمارے کراچی میں بیٹھے ڈی وی ڈی کی کاپیاں بنا کر بیچنے والے ان بھائیوں کے سر جاتا ہے۔رینبو سینٹر کی طاقت کو دیکھ کر ہندوستان نے سوچا لڑنے سے بہتر ہے دوستی کرلی جائے پچھلے کچھ مہینوں سے ہندوستان کی فلمیں قانونی طریقے سے پاکستان میں ریلیز ہوتی ہیں تھیٹر میں لگتی ہیں اور پھر ڈی وی ڈی پر کاپی رائٹ کے ساتھ ریلیز کی جاتی ہیں۔ اتنی بڑی فلموں کی مارکیٹ جسے دیکھ کر ہندوستان اپنی دشمنی بھلا کر ہمارے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے اس مارکیٹ میں پاکستان میں رہنے والے فلم بنانے والوں نے کیا کیا؟ تو جواب ہے ”کچھ نہیں“ ان کے حساب سے لوگ پاکستانی فلمیں نہیں دیکھتے اب لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ جب تک فلمیں بنیں گی نہیں وہ دیکھیں گے کیسے آج پاکستان میں اگر غلطی سے کوئی فلم بن جاتی ہے تو اسے کئی سال تک رٹا جاتا ہے کہ ہم نے بھی فلم بنائی ہماری پاکستانی فلم میکرز سے گزارش ہے کہ خدا کے لیے اور فلمیں بنائیں اور اس انڈسٹری سے ہندوستان کے بجائے پاکستان کو فائدہ پہنچائیں۔
Tuesday, August 19, 2008
Monday, August 18, 2008
Mera Kala Hai Dil Daar...
کہتے ہیں کہ پیار اندھا ہوتا ہے اسی لئے اکثر پیار کر لینے کے بعد جب عاشق کی آنکھیں کھلتی ہیں تو نظر آتا ہے کہ یہ اُس نے اپنے ساتھ کیا کیا لیکن آنکھیں کھلنے سے پہلے تو بھئی اسے اپنی پوری دنیا جیسے کوئی ہندی فلم لگ رہی ہوتی ہے جس کے اندر عاشق بے بیساکھی پکڑے کوئی سڑک پار کرا دے کہتا نہیں بلکہ شاہ رخ خان کی طرح دل ہی دل میں اچھی اچھی جگہوں پر چھلانگیں مارتا گانا گاتا پھر رہا ہوتا ہے۔ اوپر سے ستم کہ عشق پر زور نہیں یعنی عمر، شکل، موقع محل ان سب کو عاشق ایک طرف رکھ کر عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ امریکہ کے صدر بُش نے اب پوری دنیا میں تباہی مچا دی اور کئی قوموں کو اپنا دشمن بنا لیا سب کا ماننا ہے کہ جارج بش شاید ہر انسان سے نفرت کرتے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ انکی زندگی میں بھی کوئی ہے جس نے انہیں دردِ ڈسکو کرنے پر مجبور کر دیا؟ جی ہاں امریکن صدر جن کے اللہ کو پیارے ہو جانے کی دعائیں جگہ جگہ صبح شام مانگی جاتی ہیں خود کسی کو پیارے ہو گئے یعنی انکا ”نہ جانے کہاں دل کھو گیا“.... ہو گیا.... سب کا ماننا ہے کہ جارج بش نے کبھی کوئی کام سوچ سمجھ کے نہیں کیا تو پھر وہ پیار سوچ سمجھ کر کیسے کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بل کلنٹن اپنے زمانے میں عشق کرتے پکڑے گئے تھے تو سوال تھا کہ یہ کیا کیا؟ لیکن آج جارج بش کے لئے سب کے دل میں یہ سوال ہے کہ یہ کِس سے کیا؟جارج بش کو کونڈولیزا رائس سے پیار ہو گیا ہے۔ آج امریکہ کے کئی بڑے اخباروں اور ویب سائٹ پر یہ خبر گرم ہے کہ جارج بش اور انکی بیوی کے بیچ تقریباً تعلقات ختم ہو گئے ہیں اور اس بات کا اعلان بش صاحب کی صدارت نومبر میں ختم ہو جانے کے بعد کیا جائے گا۔ خبروں کے مطابق اس جھگڑے کی وجہ یہ ہے کہ پتی پتنی کے بیچ اب ”وہ“ بھی ہیں اور جب بش پوری دنیا کی ایسی کی تیسی کر کے درجنوں سکیورٹی کی گاڑیوں کے بیچ بیٹھ کر جب گھر پہنچتے ہیں تو وہاں انکی شامت آ جاتی ہے یعنی انکی زندگی سی این این سے بدل کر ژی ٹی وی کا ڈرامہ ہو جاتی ہے یعنی روز ٹورا کی تو تو اور بش کی خبروں کے مطابق ٹورا نے ایک بار جھگڑا بہت زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے بیچ رات وائٹ ہاﺅس سے نکل کر ہوٹل میں گزاری تھی۔ طلاق کے بعد ٹورا کو بیس ملین ڈالر ملنے والے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی لمبی بیوی بچوں والی شادی توڑ کر جارج بش کو کیا ملے گا؟ تو اسکا جواب ہے کونڈولیزا رائس۔ وہ شخص جن کے لئے بش اپنا سب کچھ داﺅ پہ لگا رہے ہیں وہ کوئی اور نہیں بلکہ امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس ہیں جیسے بش کو ہر مسلمان دہشت گرد لگتا ہے اسی طرح کونڈولیزا رائس راک سٹار لگتی ہیں۔ ایک پریس کانفرنس میں مس رائس کی تعریف کرتے ہوئے جارج بش نے کہا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ریپبلکن پارٹی میں مس رائس سے زیادہ کوئی ہاٹ سٹار ہے۔ جی بش صاحب آپ نے صحیح کہا وہ اتنی ہی سٹار ہیں جتنا ہر مسلمان دہشت گرد۔ مگر آگ دونوں طرف برابر ہے یعنی مس رائس کا بھی حال اب بے حال ہے انکے خیالوں میں بھی ہر وقت بش چھائے رہتے ہیں یہاں تک کہ ایک جگہ خطاب کرتے وقت انکے منہ سے نکل گیا کہ میں کل اپنے شوہر سے بات کر رہی تھی.... اور پھر ایک دم گھبرا کر جملہ صحیح کر کے بولتی ہیں کہ کل میں صدر بش سے بات کر رہی تھی یعنی مس رائس کے پیار کا عالم یہ ہے کہ دل ہی دل میںوہ جارج بش کو اپنا شوہر مان چکی ہیں۔ بش اور رائس کی ”1942 لو سٹوری“ شروع ہو چکی ہے یعنی پوری دنیا میں تباہی مچی ہے اور انہیں پیار کی سوجھ رہی ہے۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اکثر گورے سمجھتے ہیں کہ صدر بش سارا دن اپنے سٹاف کے ساتھ کام کر رہے ہوتے ہیں تاکہ قوم کا کچھ بھلا ہو لیکن یہ کیا وہ تو اپنا سارا وقت وائٹ ہاﺅس میں ایسے گزارتے ہیں جیسے وہ کوئی کالج کے لڑکے ہیں جسے نیا نیا پیار ہوا ہو۔ ”تم بہت یاد آ رہی ہو“ ”کس رنگ کے کپڑے پہنے ہیں تم نے“ ”مجھے کتنا سوچا تم نے“ جی ہاں یہ ہیں وہ ضروری باتیں جنہیں بش صاحب آجکل اپنے سٹاف کے ساتھ کر رہے ہیں بش اور مس رائس دنیا میں کہیں بھی ہوں مگر دن میں کم سے کم ایک بار بات ضرور کرتے ہیں۔ پیار اندھا ہوتا ہے لیکن انکا پیار بہرہ بھی ہے جو سن نہیں سکتا کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ صدر بش کے کندھوں پر اتنی بڑی ذمہ داری ہے اسکے باوجود جب وہ خود لڑکھڑائیں گے تو ملک کیسے سیدھا چل پائے گا۔ امریکہ میں پچھلے مہینے ریکارڈ توڑ مہنگائی بڑھی صدر بش کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ”تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے“۔اب صدر بش کی دنیا تو شاید کونڈولیزا رائس کی آنکھوں سے چل جائے لیکن ہماری یعنی باقی امریکہ میں رہنے والوں کی چلنا مشکل ہے۔ بش صاحب کے پیار کے پاگل پن میں بس ہمیں ایک اطمینان ضرور ہے کہ شکر خدا کا کونڈولیزا رائس کے خاندان کا تعلق امریکہ سے ہے اگر پاکستان کے آس پاس سے ہوتا تو بش صاحب پر پیار کا بھوت اتر جانے کے بعد یقیناً یہ طالبان کا قصور ہوتا جس کے لئے امریکہ کا پاکستان پر حملہ کرنا ضروری ہو جاتا۔
Friday, August 15, 2008
Thursday, August 14, 2008
Monday, August 11, 2008
Aa Sagar Kee Lehro , Hum Bhi atay hain Thario..
وجاہت علی عباسی”بے واچ“ وہ انگریزی کا ٹی وی سیریز ہے جو پاکستان میں بہت ہی ذوق و شوق سے دیکھا جاتا ہے۔ وجہ صاف ہے، پاکستان بحیرہ عرب کے ساحل سے جڑا ہوا ہے اور اس لئے جب کوئی ٹی وی شو سمندر کے بارے میں ہوگا تو وہ پاکستانی شوق سے کیوں نہیں دیکھیں گے؟ اگر آپ نے بے واچ نہیں دیکھا ہے تو ہم آپ کو جلدی سے یہ بتا دیں کہ اس ٹی وی شو میں ہوتا کیا ہے۔ یہ کہانی ہے Life Guards کی جو سمندر میں ڈوبتے ہوئے لوگوں کو بچاتے ہیں۔ ایک ٹیم جن کا کام سمندر میں آئے تفریح کرنے والے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ لوگ سمندر کے کنارے پر تھوڑی تھوڑی دور بڑی سی ایک کرسی پر بیٹھے دوربین سے چاروں طرف دیکھتے رہتے ہیں۔ کوئی زیادہ گہرے پانی میں جا رہا ہو تو اسے روکنا اور اگر کسی کے ساتھ کوئی سانحہ ہوجائے تو اسکی فوراً مدد کرنا۔ چلئے امریکہ کے ساحل سے واپس آتے ہیں اور پاکستان کے ان لوگوں کو پکنک پر لے کر چلتے ہیں جو صبح شام بے واچ ایسے دیکھتے ہیں جیسے زبانی یاد کررہے ہوں۔ہم وہ قوم ہیں جو طوفان کی خبر سن کر اسے دیکھنے کیلئے ساحل سمندر پہنچ جاتے ہیں۔ خبر ملتے ہی دوست پلان بنانے لگتے ہیں کہ چلو یار طوفان دیکھ کر آتے ہیں۔ اب سوچیں جب یہ جانباز شہری پکنک پر جائیں گے تو کیا کریں گے۔ کہتے ہیں کہ انسان زندگی میں جو سیکھتا ہے وقت آنے پر اسی تجربہ کو استعمال کرتا ہے۔ اب پکنک پر جانے والے ہمارے نوجوانوں نے بے واچ سے کیا سیکھا، یہ تو ہم آپ کو نہیں بتائیں گے لیکن سمندر پر جاکر کیا کرتے ہیں، یہ ضرور بتائیں گے۔ہر سال پوری دنیا میں پانچ لاکھ لوگ سمندر میں ڈوب جاتے ہیں جس میں سے زیادہ تر لوگ پانی میں تفریح کیلئے اترتے ہیں۔ ایک بہت افسوس کی بات یہ ہے کہ ان پانچ لاکھ لوگوں میں بڑی تعداد پاکستانیوں کی ہے۔ ہر سال پاکستان کا ساحل اپنے ساتھ کئی زندگیوں کو ہمیشہ کیلئے سمندر میں کہیں لے جاکر گم کردیتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بھائی جب آپ بیل کے سامنے لال کپڑا لے کر اسے چھیڑنے پر تلے ہونگے تو پھر بیل مارے گا تو ضرور....!پچھلے دنوں ٹی وی پر ایک پروگرام میں پاکستانی سمندر کے لائف گارڈز اپنی مصیبتوں کا پوٹلا کھولے بیٹھے تھے۔ ان کا مسئلہ ساحل سمندر پر آنے والے 90 فیصد لوگوں سے تھا جو زیادہ سے زیادہ گہرے پانی میں جانے کو تفریح کا نام دیتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ جتنے زیادہ سعودی عرب کے قریب تیراکی کریں گے ان کو اتنی ہی خوشی پہنچے گی ”واہ واہ پپو نے کیا کمال کیا“.... گھر والے ساحل پر کھڑے 15سالہ پپو کو دور تک تیراکی کرتا دیکھ کر ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوتے ہیں۔ وہ پپو جو عام حالات میں اپنے غسل خانے میں بالٹی بھر پانی سے زیادہ نہیں دیکھتا، اور اسے تیراکی بالکل بھی بالکل نہیں آتی، آج اپنی ساری بہادری پانی میں دکھا کر ہی دم لے گا لیکن یہ کیا پپو ہیرو بن جائے اور راجو اور گڈو پیچھے رہ جائیں، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ساحل پر دوڑ لگا کر مقابلہ کیا تو کیا فائدہ۔ اب پکنک پر آئے سارے رشتہ داروں کے بچوں میں 200 فٹ گہرے پانی کے اوپر تیراکی کے مقابلے سے ہی یہ ثابت ہوگا کہ کس کا بچہ ہیرو ہے؟ پاکستانی بیچ کے ”بھائی واچ“ یعنی مسکین لائف گارڈز جو کبھی کبھی مشکل سے ڈھونڈنے پر ملتے ہیں، کے مطابق نوجوان تو نوجوان بڑی عمر کے زیادہ سمجھدار لوگ بھی سمندر کے کنارے آکر ایسے بچے بن جاتے ہیں جو ہاتھ جلنے سے پہلے آگ سے کھیلنے سے نہیں ڈرتے”دو ہزار کی بس لی ہے اور دو ہزار کی بریانی کی دیگ، چار ہزار دیدو تو ہم پانی میں نہیں جائیں گے“ اس طرح کے جواب ملتے ہیں ہمارے بیچارے بھائی واچ کو جب پاکستانی ساحل پر کسی کو گہرے پانی میں جانے سے روکتے ہیں۔زندگی جی کر اور پانی پی کر احساس ہوتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں اللہ میاں کی نعمت ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انہیں ایک دوسرے کے حوالے کردیا جائے۔ اللہ میاں نے انسانوں کو اشرف المخلوقات بنایا، یعنی سب سے بہتر مخلوق جو زمین کا سینہ چیر کر تیل نکال لیتی ہے اور چاند پر جاکر جھنڈا گاڑ دیتی ہے اس لئے نہیں بنایا کہ وہ پرندے کی طرح اڑے یا مچھلی کی طرح تیرے، انسان گلائیڈنگ کرکے اڑنے کا شوق اور سوئمنگ پول بناکر تیرنے کا شوق کچھ حد تک پورا کرلیتا ہے لیکن اس اطمینان سے چھت سے کود جانا کہ ہاتھ ہلاﺅں گا تو اڑ ہی جاﺅں گا یا پھر سمندر میں اتر جانا کسی بھی سمجھداری کا ثبوت نہیں ہے۔100 منزلہ بلڈنگ سے چھلانگ مارنے میں اور بہت ہی گہرے سمندر میں تیراکی کرنے میں یہ فرق ہے کہ بلڈنگ سے چھلانگ مارنے کا خطرہ آپ جانتے ہیں اور پھر چھلانگ مارنے کے بعد نیچے جاتے آپ کو اپنی احمقانہ حرکت کا انجام پل پل قریب آتے نظر آرہا ہوتا ہے لیکن گہرے پانی میں خطرہ، انجام سب ایک ساتھ ایک ہی پل میں ایک لہر کے ساتھ تیرنے والے کو نظر آجاتا ہے۔ زندگی میں Rewind کا بٹن نہیں ہوتا۔ اس ایک پل میں ڈوبنے والے کی ساری زندگی بہہ جاتی ہے جیسے سردیوں کی راتوں میں آگ جلا کر اس کے اردگرد بیٹھا جاتا ہے، اس میں گھسا نہیں جاتا، ویسے ہی ساحل سمندر جاکر وہاں کے منظر سے محظوظ ہوا جاتا ہے اس میں خود منظر نہیں بنا جاتا۔
Tuesday, July 22, 2008
Mera Nachta Mustaqbil
دو دن پہلے ایک دوست کی پاکستان سے بھیجی Email آفس میں کھولتے ہی ہوش اڑ گئے۔ ای میل کا سبجیکٹ تھا ”HSBC Bank party in Sheraton Karachi“ پاکستان میں ویسے ہم نے اس ہوٹل میں اپنے رشتہ داروں کی شادی میں شرکت کی تھی اس لئے ان تصویروں میں اپنے ماضی کو ڈھونڈنے کی چاہ میں ہم نے فوراً ان ای میل کے ساتھ آئی تصویروں کو کھول لیا مگر یہ کیا....؟ تصویروں میں ہم کو اپنا ماضی نہیں، بے حال، حال اور ناچتا ہوا مستقبل نظر آیا۔ان تصویروں میں ہمیں شیرٹن ہوٹل کے بڑے سے ایک ہال میں کئی پاکستانی فیملیاں گول میزوں کے اردگرد بیٹھی نظر آئیں۔ پیچھے دیوار پر HSBC Bank کا بینر لگا ہوا تھا جس سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ یہ دعوت اس بینک کا کوئی سالانہ فنکشن ہے۔ یہاں تک تو سب صحیح تھا، اس کے بعد جو کچھ اور تصاویر میں نظر آیا اس سے ہمارے چھکے چھوٹ گئے۔ ایک محترمہ بہت کم اور انتہائی قابل اعتراض کپڑوں میں ہال کے درمیان کھڑی بیلے ڈانس کررہی تھی۔ جب ہال کے درمیان میں ناچنے سے اس کا دل نہیں بھرا تو اگلی تصویر میں وہ ٹیبلوں کے پاس لوگوں کے قریب جا جا کر ناچنے لگی۔ اگلی تصویر میں ایک صاحب بھی اپنی ٹیبل سے اٹھ کر جذباتی ہو کر ناچتے نظر آئے۔ ایک سے دوسری پھر تیسری ٹیبل، اس طرح درجن بھر تصویروں میں ہمیں اپنی سینکڑوں سال کی ثقافت ڈوبتی نظر آئی۔افسوس تھا کہ صرف چار لوگ چھپ کر کسی گمنام جگہ پر اس طرح کا اوچھا کام نہیں کررہے بلکہ کراچی کے سب سے بڑے ہوٹل میں سینکڑوں معاشرے کے عزت دار لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ بیٹھ کر اس طرح کے نازیبا ناچ کو نہ ہی صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ اپنی پوری بتیسی نکال کر تالیاں بجا بجا کے اپنی خوشی کا اظہار کرکے اس سے محظوظ بھی ہورہے ہیں۔ اس وقت جب یہ سب دیکھ کر میری آنکھیں شرمندگی سے جھکیں تو لگا جیسے ہم نے اپنی پچھلی کئی نسلوں کی بہت محنت سے بنائی ثقافت کا سر ایک نئے کھوکھلے کلچر کے سامنے جھکا دیا۔جس دوست نے وہ ای میل ہمیں بھیجی تھی اسے فون کیا، یہ جواب طلب کرنے کیلئے کہ آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے۔ زناٹے دار جواب دیا کہ کیا صرف تم امریکہ والے ہی ماڈرن ہوسکتے ہو۔ ہم پاکستان میں رہنے والے نہیں؟ پھر وہ مجھے یہ سمجھانے لگے کہ HSBC باہر کا بینک ہے جس کی وجہ سے اگر وہ بینک کوئی فنکشن کرائے تو ظاہر سی بات ہے ایسی چیزیں تو ہونگی۔ ہم نے پاکستان کیوں بنایا تھا، سننے والا کان ہمارے دوست کا کئی پاکستانیوں کی طرح شاید خراب تھا اسی لئے انہیں ہماری آواز نہیں آئی، وہ یہ کہہ کر فون رکھ کے چلتے بنے کہ HSBC جیسے بینکوں کا کلچر اپنا کر پاکستان ترقی کررہا ہے۔آئیے ہم آپ کو پہلے یہ بتادیں کہ HSBC Bank کا کلچر ہے کیا؟ یہ بینک 1865ءمیں بننے والا پہلا بینک تھا جس نے چین سے شروع کرکے اپنی شاخیں یورپ میں کھولیں۔ اس بینک نے آج سے سو سال پہلے ہی یہ بات سمجھ لی تھی کہ لوگوں کے دل جیتنے کیلئے انہیں سمجھنا ضروری ہے۔ اس لئے یہ جس ملک میں گئے وہاں کا کلچر اپنایا۔ جیسے اگر آپ چین کے HSBC Bank میں داخل ہوں تو وہاں پر زمین سے لیکر دیواروں پر لگی تصویروں تک اور وہاں کام کرنے والوں کے کپڑوں سے لیکر دربان تک، ہر چیز میں چین کا کلچر نظر آرہا ہوتا ہے۔ اسی طرح امریکہ میں ہر چیز امریکن کلچر کے مطابق اور جرمنی میں جرمن کلچر کو ذہن میں رکھ کر HSBC Bank کو ڈیزائن کیا جاتا ہے اسی لئے HSBC Bank کا سلوگن ہے کہ ”ہم دنیا کے لوکل بینک ہیں“ آج اسی لئے وہ 80 سے زائد ملکوں میں ایک لاکھ شاخیں کامیابی سے کھول چکا ہے اور اس کا سہرا ہر ملک کے کلچر کو اپنالینے کو دیتا ہے۔ آئیے واپس HSBC Bank کی کراچی شیرٹن میں ہونیوالی پارٹی میں چلتے ہیں۔HSBC Bank پہنچا پاکستان وہاں کا کلچر اپناے کیلئے لیکن یہ کیا....! ہم تو خود پاکستان میں اپنی ثقافت کو دفن کرکے اسکے اوپر چڑھے ناچ رہے ہیں۔ یہ تصویریں دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ٹی وی چینل سے ڈانس نکل کر اب ہمارے سامنے آکر کھڑا ہوگیا ہے۔ ہم اس طرح کے بیہودہ ناچ کو آج ترقی کا نام دے رہے ہیں۔ HSBC Bank جو پچھلے ڈیڑھ سو سال سے اربوں ڈالر کا کاروبار پوری دنیا میں لوکل کلچر کے نام سے کرچکا ہے، جب پاکستان پہنچا تو اس بیچارے کو پاﺅں میں گھنگھرو باندھ کر ناچنے پر مجبور کردیا گیا۔مگر آپ کو وہ ای میل کوئی بھیجے تو اسے کھولنے سے پہلے ضرور دیکھ لیجئے گا کہ گھر کا کوئی بچہ وہ تصویریں نہ دیکھ لے کیونکہ ہم امریکہ کینیڈا میں رہ کر آج بھی اپنے بچوں کو وہ پاکستانی کلچر سکھاتے ہیں جس کو ہم پاکستان چھوڑ کر اپنے ساتھ لے آئے تھے اور اگر کوئی بچہ غلطی سے وہ تصویریں دیکھ لے اور آپ سے پوچھے کہ یہ کیا ہورہا ہے تو اسے بتا دیجئے گا کہ پاکستان ترقی کررہا ہے۔
Wednesday, June 11, 2008
رشتے میں تو ہم تمہارے باپ ہوتے ہیں
بالی وڈ کے بادشاہ شاہ رخ خان ہیں یا اکشے کمار، اس موضوع پر آج کل بہت بحث چل رہی ہے۔ ہر دوسرے فلمی رسالے میں یا تو اکشے یا پھر شاہ رخ خان کی کھینچاتانی ہورہی ہوتی ہے، یہ فیصلہ کرنے کیلئے کہ اس تخت کا اصلی حقدار کون ہے؟ اب اگر ہم لکھ دیں گے کہ اکشے بالی وڈ کے بادشاہ ہیں تو یقیناً ہمارے پڑھنے والوں میں سے آدھے لوگ ہمارا کالم پڑھنا چھوڑ دیں گے، یعنی بادشاہ کی بحث میں پڑھنا نقصان کا کام ہے اس لئے بات کرتے ہیں بالی وڈ کی۔ اس شاہی گدی کی جس میں کسی بحث کا امکان نہیں ہے، یعنی بالی وڈ کے شہنشاہ کی....امیتابھ بچن بالی وڈ کے شہنشاہ ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں، وجہ لمبی ٹانگیں نہیں لیکن اس شہنشاہ کی گدی پر سے اتارنے کیلئے انکی ٹانگ کوئی نہیں کھینچ سکتا، وہ خود بھی نہیں۔ آج ہر دوسرے ہفتے امیتابھ اپنی سی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ انہوں نے جو نام کمایا اسے مٹی میں ملا دیں۔ ہر دوسرے ہفتے انکی نئی فلم آجاتی ہے جس میں وہ کیا، کیسے اور کیوں کررہے ہیں، سمجھ میں نہیں آتا۔ امیتابھ کو ہر فلم میں نظر آنے کا اتنا شوق ہے کہ آج انڈیا سے یہاں فلائٹس کم اور امیتابھ کی فلمیں زیادہ آرہی ہیں۔ ان حرکتوں کے باوجود امیتابھ بالی وڈ کے بے تاج شہنشاہ ہیں۔11 اکتوبر 1942ءکو الٰہ آباد میں پیدا ہونیوالے امیتابھ بچن جنہوں نے لیور برادرز میں نوکری نہ ملنے کی وجہ سے بمبئی جاکر ہندی فلموں میں اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا، 1969ءسے 1973ءتک 11 فلاپ فلمیں دے چکے تھے۔ 1973ءکی فلم ”زنجیر“ سے اوپر چڑھنے والے امیتابھ بچن نے پھر اپنی زندگی میں نیچے نہیں دیکھا۔ وقت جیسا بھی تھا، امیتابھ نے اس سے لڑ کر اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کی۔ اپنے کیرئیر کی بلندی پر 1982ءمیں فلم ”قلی“ کی شوٹنگ کے دوران بری طرح زخمی ہونے کی وجہ سے امیتابھ کئی مہینے ہسپتال میں رہے۔ وہ اس قدر خطرناک وقت سے گزرے کہ ایک بار کچھ لمحوں کیلئے ڈاکٹرز نے انہیں مردہ قرار دیدیا تھا لیکن امیتابھ نے ہار نہیں مانی۔ پیٹ میں چوٹ کی وجہ سے گوشت، مٹھائی، شراب سب چھوڑنے پڑے لیکن امیتابھ نے کامیابی کو شومئی قسمت رس ملائی کی نذر نہیں کیا۔”میرے پاس بلڈنگیں ہیں، پراپرٹی ہے“ سے لیکر ”جمعے کے وعدے“ تک اور پھر ”شاوا شاوا“ کرتے ان کا دل جوان تھا اس لئے ہر دور میں امیتابھ وہ کرتے ہوئے نظر آئے جو اس دور کے نوجوان کررہے تھے۔ فلم ”شعلے“ بنتے وقت ورزش کرتے دھرمیندر کا مذاق اڑاتے امیتابھ آج خود صبح پانچ بجے اٹھ کر جم جاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ دوڑ میں جیتنے کیلئے دوسرے کھلاڑیوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ آج کے فلمی ستارے فلم انسٹیٹیوٹ میں نہیں، جم میں تیار ہورہے ہیں۔ پھر امیتابھ کیوں ان سے پیچھے رہیں۔ جم تک تو سب ٹھیک تھا، اب مسئلہ یہ ہے کہ امیتابھ مزید وہ کام کرنا چاہتے ہیں جو آج کل کے نوجوان کررہے ہیں۔نوجوان آج کل انٹرنیٹ پر اپنا پروفائل بناتے ہیں، یعنی ایسی ویب سائٹ جہاں اپنے بارے میں لکھتے ہیں، اپنی تصویریں لگاتے ہیں۔ اسکے علاوہ وہاں انکے دوست وغیرہ اپنے تاثرات لکھتے ہیں۔ اس طرح کے پروفائل بنانے کے مختلف طریقے ہیں جیسے ”Blog“ Blog کا مطلب آسان الفاظ میں انٹرنیٹ پر آپ کی وہ ڈائری ہے جو سب پڑھ سکتے ہیں۔ امیتابھ کو شاید کسی نے یہ بتا دیا کہ آج کل نوجوان ہونے کیلئے انٹرنیٹ پر اپنا پروفائل بنانا بہت ضروری ہے۔امیتابھ وہ پہلے بالی وڈ ایکٹر ہیں جنہوں نے اپنا Blog انٹرنیٹ پر بنایا۔ آج امیتابھ دوسرے کروڑوں دنیا کے نوجوانوں کے بیچ واحد بالی وڈ ایکٹر ہیں جن کی ڈائری اب انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ امیتابھ ہر تھوڑی دیر بعد اپنے Blog پر وہ کیا کررہے ہیں، پوری دنیا کو بتاتے ہیں جیسے ابھی میں سو کر اٹھا ہوں، ابھی میں کھانا کھا رہا ہوں، ابھی شوٹنگ پر جا رہا ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ امیتابھ سے کوئی بھی کچھ بھی بات کرتا ہے تو امیتابھ وہ سب فوراً اس Blog پر بتا دیتے ہیں۔ ایک صحافی جیسے ہی امیتابھ سے انٹرویو لیکر گئے، امیتابھ نے فوراً ہی وہ انٹرویو اپنے Blog پر ڈال دیا اور تھوڑی دیر میں وہ انٹرویو معذرت کے ساتھ یہ کہتے ہٹایا کہ صحافی کو یہ حرکت اچھی نہیں لگی۔امیتابھ کی ہر ادا ہم کو پسند ہے۔ یہ سٹائل جو امیتابھ کا تھا، ایسا لگا یہ سٹائل ہمارا بھی ہونا چاہئے۔ ہم مانتے ہیں کہ امیتابھ بالی وڈ کے رشتے میں باپ ہوتے ہیں لیکن اپنی ذاتی زندگی ہر آدھے گھنٹے بعد پوری دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دینا؟ یہ ادا ہمیں کچھ سمجھ میں نہیں آئی۔ اتنے بڑے سٹار کو پوری دنیا کو اپنی ہر تفصیل بتا دینا زیب نہیں دیتا۔امیتابھ کےخلاف کوئی بھی بات کرنا ہمیں اچھا نہیں لگتا مگر جلدی سے آپ سے کردی یہ جانتے ہوئے کہ یہ بات امیتابھ تک نہیں پہنچے گی کیونکہ وہ ابھی ابھی Blog پر لکھ کر سونے گئے ہیں۔٭٭٭
Thursday, June 5, 2008
Phone Kartay Rahana
بار بار فون کا بجنا اور ہر بار ہمارا سٹائل سے ہیلو بولتے فون اٹھانا۔ جاپانیوں نے بہت محنت سے موبائل فون بنایا پھر کئی ارب خرچ کر کے اسے ہمارے ہاتھوں تک پہنچایا لیکن ہر بار فون بجنے پر ہماری خوشی کا باعث ہوتی وہ پاکستانی فون کمپنی جو ہمیں صرف سو روپے میں پورے مہینے فون استعمال کرنے دیتی وہ بھی مفت Incoming کے ساتھ۔ فری ان کمنگ کی ہم نے عادت تو فوراً ڈال لی اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہمیں آﺅٹ گوئنگ کال کرنی ہو تو پھر پیسے کیسے بچائیں یہاں کام آئی کالر آئی ڈی اور سینڈ اینڈ کے بٹن کا قریب ہونا۔ آﺅٹ گوئنگ کال کے ملتے ہی پہلی گھنٹی پر فون بند کر دینا اور پھر جس کے فون پر گھنٹی بجی ہو اسکا فون آ جانا یار تم نے فون کیا تھا؟ اسی طرح ہم جاپانیوں کی سائنس کو پاکستانیوں کے آرٹ سے ملا کر ہم کم سے کم پیسوں میں فون استعمال کرتے۔ پھر آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے یعنی ہمارا امریکہ کا ویزا لگ گیا اور جلدی ہماری روانگی.... گھر والے، پڑوسی، دوست، انکے دوست قریب سے لے کر دور اور بہت دور دور کے رشتے داروں کو اب ہم سے ایک ہی امید اور وہ یہ کہ جاتے ہی ہم کو بھول نہیں جانا فون کرتے رہنا۔ آدھے سے زیادہ وہ لوگ جن کو ہم پاکستان میں رہتے ہوئے یاد نہیں رکھتے تھے۔ اب ہمیں وعدہ کرنے پر مجبور کر رہے تھے کہ امریکہ جا کے ہم انہیں بھول نہیں جائیں گے۔ دیکھئے اگر آپ پاکستان سے چین فون کریں اور فون اٹھاتے ہی کوئی چینی بولنے لگے تو آپ یہ سوچ کر اطمینان سے فون رکھ دیں گے کہ چینی تو ہمیں آتی نہیں اور نہ ہی آنے کی ضرورت ہے لیکن امریکہ فون کریں اور دوسری طرف سے آپریٹر فون اٹھاتے ہی ”اے فار ایپل“ کرنے لگے تو بین الاقوامی سطح پر یہ بتانا کہ پاکستانی کو انگریزی نہیں آتی انتہائی شرمندگی کی بات ہو گی اس لئے نہ فون کرو نہ ہی شرمندگی کا سامنا کرو۔ امریکہ بہت دور ہے جانے سے پہلے رشتے دار آپ کو رو رو کر بتاتے ہیں اور جانے کے بعد فون نہ کر کے۔ امریکہ میں ہر بزنس کا سب سے پہلا اصول ہوتا ہے کہ گاہک ہمیشہ صحیح ہوتا ہے.... غلط.... ایک بزنس کو چھوڑ کر وہ ہے فون کارڈ کا بزنس یہاں گاہک ہمیشہ غلط ہوتا ہے۔ امریکہ آ کر پتہ چلا کہ پاکستان فون کرنے کے لئے زیادہ تر یہاں کالنگ کارڈ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پانچ ڈالر کا کارڈ کسی بھی دیسی دکان سے خریدیں اور پیچھے دئیے فون نمبر کو ملا کر کارڈ پر لکھی پن ڈالیں اور تیس یا چالیس منٹ پاکستان بات کیجئے۔ چلئے کال کرنے کا طریقہ تو ہم نے آسانی سے آپ کو سمجھا دیا اب اس کارڈ سے مشکل سے ملنے والی کال کی مزید مشکلات کی بات کرتے ہیں۔ ہر بار خریدنے پر اس کارڈ کا نام کیوں بدل جاتا ہے کبھی سمجھ میں نہیں آیا یعنی کبھی پاکستان زندہ باد کبھی ہیلو پاکستان، کبھی ٹاک پاکستان تو کبھی واک پاکستان۔ جو لفظ پاکستان کے ساتھ لگ سکتا تھا اس کارڈ پر لگا دیا گیا جو اس کالنگ کارڈ سے نہیں لگتا ہے وہ ہے پاکستان فون پہلی بار فون ملانے پر انگریزی میں آواز آئی کہ آپ کے پاس بات کرنے کے چالیس منٹ ہیں پھر لمبی خاموشی پھر فون ملائیں تو آواز آتی ہے اب آپ کے پاس اٹھارہ منٹ ہیں۔ یہ بات کبھی سمجھ میں نہیں آ پائی کہ اس دو منٹ کی خاموش نے ایسا کیا کر دیا کہ ہم سے بائیس منٹ چھین لئے گئے۔ کارڈ پر اوپر مسکراتی خاتون کی تصویر جس پر نیچے ”Call now“ لکھا تھا پر یقین کر کے دو تین بار فون ملانے پر پورا کارڈ خاموشی کی نذر ہو جاتا۔ اب اگر غلطی سے ہم دکاندار سے جا کر یہ کہہ دیں کہ یہ کارڈ نہیں چلا تو وہ ہم پہ ایسے غصہ ہوتا جیسے وہ امیگریشن آفیسر ہو اور ہمارا ویزا کئی مہینے پہلے ایکسپائر ہو چکا ہے۔ کئی سال کارڈ کی لات کھانے کے بعد آخر ہم کو ایک ایسی کمپنی مل گئی جو ہم کو پانچ سینٹ فی منٹ کال کرنے کی سہولت ہمارے گھر کے فون سے کرنے دے گی وہ بھی بغیر کسی پن کے۔ پچھلے مہینے اس پلان پر سائن اپ کرتے ہی زندگی آسان لگنے لگی۔ ہر ہفتے کئی بیکار کارڈز اور کئی ناراض رشتے داروں کا سامنا ہم کو نہیں کرنا پڑے گا۔ اب ہم اپنے ”امریکہ سے فون کروں گا“ والی باتیں پوری کر پائیں گے اور یہ کارڈ جو روز نام کام اور دام بدلتے ہیں ان کو ہم کبھی نہیں خریدیں گے یہی سب سوچتے ہی شیخ چلی کے سارے انڈے ٹوٹ گئے۔ پہلی مئی 2008ءسے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بیرون ملک سے پاکستان کال آنے کا اپرووڈ سیٹلمنٹ ریٹ سو فیصد بڑھا دیا ہے۔ ان کے حساب سے لوگ پاکستان بہت زیادہ فون کرنے لگے ہیں اور زیادہ کالز کی ٹریفک سنبھالنے کے لئے آپریٹرز کی تنخواہیں بڑھانی پڑیں گی۔ دوسرے ہر سال پچاس ملین کی کالز پاکستان چوری سے کی جاتی ہیں جسکا جرمانہ اب پاکستان ٹیلی کام ہم سے یہ ریٹ بڑھا کر وصول کرے گا۔ سنا ہے جلدی ہی یہ ریٹ ڈھائی سو فیصد بڑھ جائے گا۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہوتا ہے اور شاید ہمیں پھر سہارا فون کارڈز کا ہی لینا پڑے گا جو کم سے کم چالیس منٹ میں فون کالز کی امید تو دیتا ہے اگر آپ کو کسی اچھے کالنگ کارڈ کا نام پتہ ہے جس سے آجکل کال مل جاتی ہے تو ہمیں ضرور بتائیے گا۔
Thursday, May 29, 2008
Wednesday, May 21, 2008
Miss Pakistan ? By Wajahat Ali Abbasi
یجیو ٹی وی پر صبح آنے والے ٹی وی پروگرام نادیہ خان شو کی شام میں
پچھلے ہفتے ہم شام میں اس لئے دیکھنے لگے کیونکہ لگا نادیہ سیلاب Repeat
زدگان کی تاج پوشی کر رہی ہیں۔ ایک ضرورت سے زیادہ پتلی محترمہ سر پر تاج پہنے بیٹھی تھیں انکے برابر ایک کافی صحت مند خاتون موجود تھیں جو یقیناً کسی کشتی کے مقابلے میں حصہ لینے والی تھیں اور تیاری وہ ٹی وی پر ہمارے یعنی ناظرین کے ساتھ کر رہی تھیں تکلیف دہ حد تک پتلی خاتون نے اپنے اردگرد پٹا ڈالا ہوا تھا جس پر بڑا بڑا پاکستان لکھا ہوا تھا۔ انکے مستقل اترانے کی کوشش کرنے سے ہمیں یہ تو اندازہ ہو گیا کہ انکے ٹی وی پر آنے کی وجہ سیلاب نہیں ہے۔ اگلے پانچ منٹ کے اندر ہمارے چھکے اور ہنسی دونوں چھوٹ گئے جب آواز آئی کہ ”میں Miss Pakistan Canada ہوں“۔ فاطمہ جناح کو مادرِ ملت ماننے والے پاکستان کو محترمہ یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی کہ ہم انہیں کیوں Miss Pakistan مان لیں۔ وہ ”مِس“ جن کے ساتھ ہم کبھی ”پاکستان“ نہیں لگنے دیں گے، پہلوان ان محترمہ سے زیادہ بدتمیز تھیں یا کم بتانا مشکل ہے۔ چلئے سب سے پہلے ہم آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ بیوٹی پیمبنٹ ہوتا کیا ہے اور پھر بتائیں گے کہ صوفے پر بیٹھی محترمہ کیا ہیں۔ مِس یونیورس اور مِس ورلڈ 1951ءسے شروع ہونے والے دو ایسے پیمبنٹ ہیں جنہیں پوری دنیا میں مانا جاتا ہے۔ ہر سال مِس ورلڈ بننے والی لڑکی لندن میں اور مِس یونیورس بننے والی نیویارک میں اگلے ایک سال کینسر، ایڈز، غربت جیسے مختلف کاموں میں اپنا وقت دنیا بھر کی عورتوں کو دیتی ہے۔ ان دونوں ہی مقابلوں میں شامل ہونے کے لئے لڑکیوں کو اپنے ملک میں رہتے ہوئے پہلے اپنے ملک میں پیمبنٹ جیتنے ہوتے ہیں یعنی مِس ورلڈ میں جانے کے لئے انڈین لڑکی کو انڈیا میں مِس انڈیا پیمبنٹ جیتنا لازمی ہے۔ 1953ءکی مِس امریکہ نے پہلی بار ہونے والے مِس یونیورس مقابلے میں سوئم سوٹ پہننے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا میں نہیں چاہتی دنیا امریکن لڑکی کو اس طرح کے لباس میں دیکھے۔ چلئے آج ہم آپ کو ان پاکستانیوں سے ملواتے ہیں جو پاکستان کا مطلب بھول چکے ہیں اور بحث کرتے ہیں کہ پاکستانی لڑکی کا سوئم سوٹ پہن کر پاکستانی جھنڈے کے ساتھ دنیا کے سامنے آنے سے ہم باقی ملکوں کے ساتھ قدم سے قدم ملانے میں کامیاب ہونگے۔ Miss Pakistan Canada اس شو کا نام ہے جس کے ذریعے کچھ پاکستانی ٹورنٹو میں ہر سال اپنی قوم کو شرمندہ کرتے ہیں۔ اس میں حصہ لینے کے لئے نہ ہی آپ کو ”پاکستانی“ ہونے کی ضرورت ہے نہ ہی ذہین اور نہ ہی خوبصورت۔ بس اگر آپ لڑکی ہیں تو کافی ہے۔ پہلے تو اِن چار پانچ لڑکیوں کو مِس ورلڈ مقابلے کی صبح شام ویڈیو دکھائی جاتی ہے پھر اِن لڑکیوں کو ایک ہال میں کھڑا کر کے یہ کہا جاتا ہے کہ دل ہی دل میں سوچ لو جیسے تم مِس ورلڈ مقابلے میں حصہ لے رہی ہو پھر دل میں ارمان بھری اِن لڑکیوں کی مختلف لباس میں تصویریں لی جاتی ہیں اور پھر ہرممکنہ کوشش کی جاتی ہے کہ یہ تصویریں کہیں چھپ جائیں۔ 2002ءسے یہ سلسلہ جاری ہے لیکن نہ ہی انکو کسی نے پاکستان میں اور نہ ہی یہاں کسی پاکستانی کمیونٹی نے گھاس ڈالی۔ اب سوال تھا مشہور کیسے ہوا جائے؟ پبلک کی نظروں میں کیونکر آیا جائے۔ مِس کاش.... میں بھی کچھ بن سکوں.... نے مشہور ہونے کے لئے صدر پرویز مشرف کو نشانہ بنایا۔ یہ محترمہ پچھلے مہینے چین کے ایک چھوٹے سے مقابلے میں سوئم سوٹ پہن کر پاکستانی جھنڈا اور صدر کی تصویر کی طرف فلائنگ کِس دیتے چین کو یہ بتا رہی تھیں کہ پاکستان کیا ہے جی ہاں وہی چین جو پچھلے کئی سالوں سے پاکستان کا سب سے قریبی دوست ہے اور پاکستان کو اچھی طرح جانتا ہے۔ ٹی وی شو میں وہ خود اور انکے ساتھ Miss Pakistan Canada کرانے والی محترمہ ہر کالر سے بری طرح بحث کرتیں جب کوئی انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتا کہ جو وہ کر رہی ہیں غلط ہے۔ اگر کسی نے کہا پاکستانی مسلمان ہو کر خود کو دنیا کے سامنے کم کپڑوں میں نمائش کرنا انتہائی شرمندگی کا مقام ہے تو Organiser جو شاید چین سے ”سومو ریسلنگ“ جیت کر آئی تھیں ہر کال کے سوال پر ایسے بدتمیزی کرتیں جس سے لگتا ابھی سکرین سے باہر نکل کر منہ نوچ لیں گی۔ مِس اپنے منہ میاں مٹھو.... جو صرف چھ سال پہلے کراچی کے کسی چھوٹے سے علاقے سے کینیڈا آئیں ہیں ہنس کی چال چلنے کے چکر میں کیا اور کیسے بولنا ہے کی تمیز نہیں رکھتی ہیں نادیہ خان نے ان سے مزدور بھائیوں کو لیبر ڈے پر کوئی پیغام دینے کو کہا یعنی وہ دن جو ہزاروں مزدوروں کو مار دینے کے سوگ میں منایا جاتا ہے.... تو وہ ٹی وی کی طرف منہ کر کے مزدور بھائیوں سے فرماتی ہیں Enjoy your day..... it's your day جو دو جملے بول نہیں سکتی کیسے پاکستان کی respect کرنے کا سوچ رہی ہے۔ نادیہ خان نے دو دن پہلے پروگرام میں بتایا کہ دبئی ایئرپورٹ میں ان دونوں نے خواہ مخواہ ایئرپورٹ انتظامیہ سے بدتمیزی کی گالیاں دیں اور دبئی پولیس نے اس جرم میں انہیں ساری رات ایئرپورٹ پر بٹھائے رکھا اور معافی مانگنے کو کہا انکے معافی نہ مانگنے پر جیو ٹی وی کو دبئی ایئرپورٹ والوں سے معافی مانگنی پڑی اور اللہ اللہ کرتے انہیں دبئی سے رخصت کیا۔ جو لڑکی پاکستان کا نام اپنے ساتھ لگا کر بہت ہی کم کپڑوں میں سب کے سامنے بیلی ڈانس کرنے کو پاکستانی ثقافت سمجھے اس سے ہم کو یہی امید تھی۔ ٭٭٭٭٭
پچھلے ہفتے ہم شام میں اس لئے دیکھنے لگے کیونکہ لگا نادیہ سیلاب Repeat
زدگان کی تاج پوشی کر رہی ہیں۔ ایک ضرورت سے زیادہ پتلی محترمہ سر پر تاج پہنے بیٹھی تھیں انکے برابر ایک کافی صحت مند خاتون موجود تھیں جو یقیناً کسی کشتی کے مقابلے میں حصہ لینے والی تھیں اور تیاری وہ ٹی وی پر ہمارے یعنی ناظرین کے ساتھ کر رہی تھیں تکلیف دہ حد تک پتلی خاتون نے اپنے اردگرد پٹا ڈالا ہوا تھا جس پر بڑا بڑا پاکستان لکھا ہوا تھا۔ انکے مستقل اترانے کی کوشش کرنے سے ہمیں یہ تو اندازہ ہو گیا کہ انکے ٹی وی پر آنے کی وجہ سیلاب نہیں ہے۔ اگلے پانچ منٹ کے اندر ہمارے چھکے اور ہنسی دونوں چھوٹ گئے جب آواز آئی کہ ”میں Miss Pakistan Canada ہوں“۔ فاطمہ جناح کو مادرِ ملت ماننے والے پاکستان کو محترمہ یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی کہ ہم انہیں کیوں Miss Pakistan مان لیں۔ وہ ”مِس“ جن کے ساتھ ہم کبھی ”پاکستان“ نہیں لگنے دیں گے، پہلوان ان محترمہ سے زیادہ بدتمیز تھیں یا کم بتانا مشکل ہے۔ چلئے سب سے پہلے ہم آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ بیوٹی پیمبنٹ ہوتا کیا ہے اور پھر بتائیں گے کہ صوفے پر بیٹھی محترمہ کیا ہیں۔ مِس یونیورس اور مِس ورلڈ 1951ءسے شروع ہونے والے دو ایسے پیمبنٹ ہیں جنہیں پوری دنیا میں مانا جاتا ہے۔ ہر سال مِس ورلڈ بننے والی لڑکی لندن میں اور مِس یونیورس بننے والی نیویارک میں اگلے ایک سال کینسر، ایڈز، غربت جیسے مختلف کاموں میں اپنا وقت دنیا بھر کی عورتوں کو دیتی ہے۔ ان دونوں ہی مقابلوں میں شامل ہونے کے لئے لڑکیوں کو اپنے ملک میں رہتے ہوئے پہلے اپنے ملک میں پیمبنٹ جیتنے ہوتے ہیں یعنی مِس ورلڈ میں جانے کے لئے انڈین لڑکی کو انڈیا میں مِس انڈیا پیمبنٹ جیتنا لازمی ہے۔ 1953ءکی مِس امریکہ نے پہلی بار ہونے والے مِس یونیورس مقابلے میں سوئم سوٹ پہننے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا میں نہیں چاہتی دنیا امریکن لڑکی کو اس طرح کے لباس میں دیکھے۔ چلئے آج ہم آپ کو ان پاکستانیوں سے ملواتے ہیں جو پاکستان کا مطلب بھول چکے ہیں اور بحث کرتے ہیں کہ پاکستانی لڑکی کا سوئم سوٹ پہن کر پاکستانی جھنڈے کے ساتھ دنیا کے سامنے آنے سے ہم باقی ملکوں کے ساتھ قدم سے قدم ملانے میں کامیاب ہونگے۔ Miss Pakistan Canada اس شو کا نام ہے جس کے ذریعے کچھ پاکستانی ٹورنٹو میں ہر سال اپنی قوم کو شرمندہ کرتے ہیں۔ اس میں حصہ لینے کے لئے نہ ہی آپ کو ”پاکستانی“ ہونے کی ضرورت ہے نہ ہی ذہین اور نہ ہی خوبصورت۔ بس اگر آپ لڑکی ہیں تو کافی ہے۔ پہلے تو اِن چار پانچ لڑکیوں کو مِس ورلڈ مقابلے کی صبح شام ویڈیو دکھائی جاتی ہے پھر اِن لڑکیوں کو ایک ہال میں کھڑا کر کے یہ کہا جاتا ہے کہ دل ہی دل میں سوچ لو جیسے تم مِس ورلڈ مقابلے میں حصہ لے رہی ہو پھر دل میں ارمان بھری اِن لڑکیوں کی مختلف لباس میں تصویریں لی جاتی ہیں اور پھر ہرممکنہ کوشش کی جاتی ہے کہ یہ تصویریں کہیں چھپ جائیں۔ 2002ءسے یہ سلسلہ جاری ہے لیکن نہ ہی انکو کسی نے پاکستان میں اور نہ ہی یہاں کسی پاکستانی کمیونٹی نے گھاس ڈالی۔ اب سوال تھا مشہور کیسے ہوا جائے؟ پبلک کی نظروں میں کیونکر آیا جائے۔ مِس کاش.... میں بھی کچھ بن سکوں.... نے مشہور ہونے کے لئے صدر پرویز مشرف کو نشانہ بنایا۔ یہ محترمہ پچھلے مہینے چین کے ایک چھوٹے سے مقابلے میں سوئم سوٹ پہن کر پاکستانی جھنڈا اور صدر کی تصویر کی طرف فلائنگ کِس دیتے چین کو یہ بتا رہی تھیں کہ پاکستان کیا ہے جی ہاں وہی چین جو پچھلے کئی سالوں سے پاکستان کا سب سے قریبی دوست ہے اور پاکستان کو اچھی طرح جانتا ہے۔ ٹی وی شو میں وہ خود اور انکے ساتھ Miss Pakistan Canada کرانے والی محترمہ ہر کالر سے بری طرح بحث کرتیں جب کوئی انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتا کہ جو وہ کر رہی ہیں غلط ہے۔ اگر کسی نے کہا پاکستانی مسلمان ہو کر خود کو دنیا کے سامنے کم کپڑوں میں نمائش کرنا انتہائی شرمندگی کا مقام ہے تو Organiser جو شاید چین سے ”سومو ریسلنگ“ جیت کر آئی تھیں ہر کال کے سوال پر ایسے بدتمیزی کرتیں جس سے لگتا ابھی سکرین سے باہر نکل کر منہ نوچ لیں گی۔ مِس اپنے منہ میاں مٹھو.... جو صرف چھ سال پہلے کراچی کے کسی چھوٹے سے علاقے سے کینیڈا آئیں ہیں ہنس کی چال چلنے کے چکر میں کیا اور کیسے بولنا ہے کی تمیز نہیں رکھتی ہیں نادیہ خان نے ان سے مزدور بھائیوں کو لیبر ڈے پر کوئی پیغام دینے کو کہا یعنی وہ دن جو ہزاروں مزدوروں کو مار دینے کے سوگ میں منایا جاتا ہے.... تو وہ ٹی وی کی طرف منہ کر کے مزدور بھائیوں سے فرماتی ہیں Enjoy your day..... it's your day جو دو جملے بول نہیں سکتی کیسے پاکستان کی respect کرنے کا سوچ رہی ہے۔ نادیہ خان نے دو دن پہلے پروگرام میں بتایا کہ دبئی ایئرپورٹ میں ان دونوں نے خواہ مخواہ ایئرپورٹ انتظامیہ سے بدتمیزی کی گالیاں دیں اور دبئی پولیس نے اس جرم میں انہیں ساری رات ایئرپورٹ پر بٹھائے رکھا اور معافی مانگنے کو کہا انکے معافی نہ مانگنے پر جیو ٹی وی کو دبئی ایئرپورٹ والوں سے معافی مانگنی پڑی اور اللہ اللہ کرتے انہیں دبئی سے رخصت کیا۔ جو لڑکی پاکستان کا نام اپنے ساتھ لگا کر بہت ہی کم کپڑوں میں سب کے سامنے بیلی ڈانس کرنے کو پاکستانی ثقافت سمجھے اس سے ہم کو یہی امید تھی۔ ٭٭٭٭٭
Tuesday, May 13, 2008
آج کی تازہ خبر -By Wajahat Ali Abbasi
وجاہت علی عباسیپ
چھلے ہفتے پاکستان میں شائع ہونے والے شام کے ایک اخبار میں چھوٹی سی ایک خبر چھپی.... ایک آدمی نے اپنی بیوی اور دو بچوں سمیت چلتی ٹرین کے نیچے لیٹ کر اپنی جان دے دی۔ خبر اتنی چھوٹی تھی کہ شاید وہ بڑی بڑی شخصیات کی رنگین تصویروں کے ساتھ چھپنے کی وجہ سے صفحے پر سامنے ہونے کے باوجود کچھ گم سی گئی۔ آئیے آج ہم آپ کو اس چھوٹی سی خبر والے شخص سے ملائیں جو اپنی پوری زندگی سمیٹے ٹرین کی پٹڑی پر لیٹا موت کا انتظار کر رہا ہے۔ ”ابو میں اسکول نہیں گیا تو بھی اپنی محنت سے کامیاب انسان بن جاﺅں گا“ یہی کہتا تھا وہ پانچ سال کا سلیم جو جانتا تھا کہ اس کے والد ایک غریب، اخبار کی دکان پر کام کرنے والے ہیں اور چاہتے ہوئے بھی اپنے بیٹے کو اسکول نہیں بھیج سکتے ہیں۔ اپنے والد کے ساتھ دکان پر بیٹھا وہ جب دوسرے بچوں کو اسکول جاتے دیکھتا تو اس کے والد کو اپنی بے بسی پر تکلیف نہ پہنچے اس لئے فوراً ایک اخبار اٹھاتا اور کہتا ”ابو دیکھ لیجئے گا ایک دن آپ کے بیٹے کا نام بھی اس اخبار میں ضرور چھپے گا۔ سلیم احمد کا نام اس ملک کے بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ چھپے گا“ سلیم کے بے بس والد یہ جاننے کے باوجود کہ ان کے بیٹے کی ہر ضرورت کا انحصار ان پر ہی ہے مسکرا دیتے اور کہیں دل کے گوشے میں یہ یقین رکھتے کہ سلیم کی کہی بات ایک دن سچ ہو گی۔ آٹھ سال کی عمر سے سلیم نے پھول بیچنا شروع کر دئیے وہ بھیک نہیں مانگے گا.... پڑھ تو نہیں پایا تھا لیکن اس کے والد کی دکان کے پاس چائے کے ڈھابے پر رکھے ٹی وی نے اسے بہت کچھ سکھایا۔ قائداعظم، لیاقت علی خان اور علامہ اقبال کے کئی اقوال اسے زبانی یاد تھے۔ محنت سے قومیں آگے بڑھتی ہیں.... یہی تھا ان قولوں کا حاصل۔ سلیم صبح چار بجے اٹھتا ‘خود پھول چنتا ‘اس سے ہار بناتا اور پھر سارا دن اپنے ننھے ہاتھوں میں پھول تھامے ان گزرتی گاڑیوں کو امید سے دیکھتا جن میں اسی کی عمر کے بچے اسکول جا رہے ہوتے۔ امید اس بات کی کہ اس کی محنت کا پھل اسے ملے یعنی کوئی اس سے پھول خریدے بہت زیادہ ضرورت ہونے کے باوجود جب کوئی اسے پھول کی قیمت سے زیادہ پیسے دینے کی کوشش کرتا تو وہ مسکرا کر یہ کہہ کر لوٹا دیتا کہ مجھے میری محنت کا صلہ مل گیا ہے وہ عمر جب بچے بازار میں ملنے والی ہر چیز خریدنے کی والدین سے ضد کرتے ہیں اسی عمر میں سلیم کی زندگی کا سب سے اچھا دن وہ تھا جب اس نے اپنے والد کو اپنی کمائی سے نیا قلم خرید کے دیا تھا۔ اس بات کو پچیس سال گزر گئے وہ قلم آج بھی سلیم کے پاس ہے جو اس نے اپنے والد کو بچپن میں خرید کے دیا تھا۔ شاید اس قلم کو دیکھ کر اسے کبھی کبھی لگتا ہے کہ کامیابی کی طرف کم سے کم اس نے ایک قدم تو اٹھایا تھا۔ سلیم کی پھولوں سے شروع ہونے والی زندگی کو آج کے نظام نے روند کر رکھ دیا۔ سلیم آج سمجھ گیا ہے کہ غریب آدمی کا بیٹا صرف غریب آدمی بنتا ہے اور کچھ نہیں۔ سلیم کے بچے پچھلے کئی مہینوں سے ہفتے میں صرف ایک یا دو بار مشکل سے پیٹ بھر کے کھانا کھا پاتے ہیں ۔سلیم نے زندگی میں جو بھی کرنا چاہا.... اس کا اچھا قدم برے system کی بَلی چڑھ گیا‘ بچوں کو اسکول بھیجنا چاہا تو گورنمنٹ اسکول میں جگہ نہیں، پیسے جمع کر کے ٹھیلا لگایا تو وہ فساد کی نذر ہو گیا۔ قسطوں پر رکشہ خریدا تو وہ غلط کیس میں پولیس نے ضبط کر لیا۔ چھوٹی سے چھوٹی نوکری کرنی چاہی تو بغیر رشوت اور سفارش کے نہ ملی ہر نئی حکومت کے آنے پر مہنگائی کا مزید بڑھ جانا، سلیم روز اپنے بچوں کو بھوک سے مرتا دیکھتا روز اپنی سی ہر کوشش کر کے بھی سسٹم سے اتنا نہیں لڑ پاتا کہ اپنے بچوں کے لئے دو روٹیاں لا سکے۔ وہ روز اپنے بچوں کو مرتا نہیں دیکھ سکتا تھا سلیم کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو وہ سڑک پر اپنے بچوں سے بھیک منگوائے یا پھر....سلیم ریل کی پٹڑی پر لیٹا اپنی موت کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ خوش ہے کہ اس کے والد اب دنیا میں نہیں ہیں ورنہ کل ان کو اپنے بیٹے کا نام اخبار میں لکھا نظر آتا، اسے ناز ہے اس بات پر کہ وہ اچھا شہری بن پایا.... اس نے اپنی قوم کے لئے کچھ کرنا چاہا، اپنی سی ہر محنت کی اچھا بیٹا بنا، اچھا باپ بننے کی ہرممکن کوشش کی، جھوٹ نہیں بولا، چوری نہیں کی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا ہمیشہ وہ کیا جو ایک اچھے انسان کو کرنا چاہئے.... ہمیشہ دوسروں کے لئے.... اور ٹرین آ گئی....٭٭٭٭
چھلے ہفتے پاکستان میں شائع ہونے والے شام کے ایک اخبار میں چھوٹی سی ایک خبر چھپی.... ایک آدمی نے اپنی بیوی اور دو بچوں سمیت چلتی ٹرین کے نیچے لیٹ کر اپنی جان دے دی۔ خبر اتنی چھوٹی تھی کہ شاید وہ بڑی بڑی شخصیات کی رنگین تصویروں کے ساتھ چھپنے کی وجہ سے صفحے پر سامنے ہونے کے باوجود کچھ گم سی گئی۔ آئیے آج ہم آپ کو اس چھوٹی سی خبر والے شخص سے ملائیں جو اپنی پوری زندگی سمیٹے ٹرین کی پٹڑی پر لیٹا موت کا انتظار کر رہا ہے۔ ”ابو میں اسکول نہیں گیا تو بھی اپنی محنت سے کامیاب انسان بن جاﺅں گا“ یہی کہتا تھا وہ پانچ سال کا سلیم جو جانتا تھا کہ اس کے والد ایک غریب، اخبار کی دکان پر کام کرنے والے ہیں اور چاہتے ہوئے بھی اپنے بیٹے کو اسکول نہیں بھیج سکتے ہیں۔ اپنے والد کے ساتھ دکان پر بیٹھا وہ جب دوسرے بچوں کو اسکول جاتے دیکھتا تو اس کے والد کو اپنی بے بسی پر تکلیف نہ پہنچے اس لئے فوراً ایک اخبار اٹھاتا اور کہتا ”ابو دیکھ لیجئے گا ایک دن آپ کے بیٹے کا نام بھی اس اخبار میں ضرور چھپے گا۔ سلیم احمد کا نام اس ملک کے بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ چھپے گا“ سلیم کے بے بس والد یہ جاننے کے باوجود کہ ان کے بیٹے کی ہر ضرورت کا انحصار ان پر ہی ہے مسکرا دیتے اور کہیں دل کے گوشے میں یہ یقین رکھتے کہ سلیم کی کہی بات ایک دن سچ ہو گی۔ آٹھ سال کی عمر سے سلیم نے پھول بیچنا شروع کر دئیے وہ بھیک نہیں مانگے گا.... پڑھ تو نہیں پایا تھا لیکن اس کے والد کی دکان کے پاس چائے کے ڈھابے پر رکھے ٹی وی نے اسے بہت کچھ سکھایا۔ قائداعظم، لیاقت علی خان اور علامہ اقبال کے کئی اقوال اسے زبانی یاد تھے۔ محنت سے قومیں آگے بڑھتی ہیں.... یہی تھا ان قولوں کا حاصل۔ سلیم صبح چار بجے اٹھتا ‘خود پھول چنتا ‘اس سے ہار بناتا اور پھر سارا دن اپنے ننھے ہاتھوں میں پھول تھامے ان گزرتی گاڑیوں کو امید سے دیکھتا جن میں اسی کی عمر کے بچے اسکول جا رہے ہوتے۔ امید اس بات کی کہ اس کی محنت کا پھل اسے ملے یعنی کوئی اس سے پھول خریدے بہت زیادہ ضرورت ہونے کے باوجود جب کوئی اسے پھول کی قیمت سے زیادہ پیسے دینے کی کوشش کرتا تو وہ مسکرا کر یہ کہہ کر لوٹا دیتا کہ مجھے میری محنت کا صلہ مل گیا ہے وہ عمر جب بچے بازار میں ملنے والی ہر چیز خریدنے کی والدین سے ضد کرتے ہیں اسی عمر میں سلیم کی زندگی کا سب سے اچھا دن وہ تھا جب اس نے اپنے والد کو اپنی کمائی سے نیا قلم خرید کے دیا تھا۔ اس بات کو پچیس سال گزر گئے وہ قلم آج بھی سلیم کے پاس ہے جو اس نے اپنے والد کو بچپن میں خرید کے دیا تھا۔ شاید اس قلم کو دیکھ کر اسے کبھی کبھی لگتا ہے کہ کامیابی کی طرف کم سے کم اس نے ایک قدم تو اٹھایا تھا۔ سلیم کی پھولوں سے شروع ہونے والی زندگی کو آج کے نظام نے روند کر رکھ دیا۔ سلیم آج سمجھ گیا ہے کہ غریب آدمی کا بیٹا صرف غریب آدمی بنتا ہے اور کچھ نہیں۔ سلیم کے بچے پچھلے کئی مہینوں سے ہفتے میں صرف ایک یا دو بار مشکل سے پیٹ بھر کے کھانا کھا پاتے ہیں ۔سلیم نے زندگی میں جو بھی کرنا چاہا.... اس کا اچھا قدم برے system کی بَلی چڑھ گیا‘ بچوں کو اسکول بھیجنا چاہا تو گورنمنٹ اسکول میں جگہ نہیں، پیسے جمع کر کے ٹھیلا لگایا تو وہ فساد کی نذر ہو گیا۔ قسطوں پر رکشہ خریدا تو وہ غلط کیس میں پولیس نے ضبط کر لیا۔ چھوٹی سے چھوٹی نوکری کرنی چاہی تو بغیر رشوت اور سفارش کے نہ ملی ہر نئی حکومت کے آنے پر مہنگائی کا مزید بڑھ جانا، سلیم روز اپنے بچوں کو بھوک سے مرتا دیکھتا روز اپنی سی ہر کوشش کر کے بھی سسٹم سے اتنا نہیں لڑ پاتا کہ اپنے بچوں کے لئے دو روٹیاں لا سکے۔ وہ روز اپنے بچوں کو مرتا نہیں دیکھ سکتا تھا سلیم کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو وہ سڑک پر اپنے بچوں سے بھیک منگوائے یا پھر....سلیم ریل کی پٹڑی پر لیٹا اپنی موت کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ خوش ہے کہ اس کے والد اب دنیا میں نہیں ہیں ورنہ کل ان کو اپنے بیٹے کا نام اخبار میں لکھا نظر آتا، اسے ناز ہے اس بات پر کہ وہ اچھا شہری بن پایا.... اس نے اپنی قوم کے لئے کچھ کرنا چاہا، اپنی سی ہر محنت کی اچھا بیٹا بنا، اچھا باپ بننے کی ہرممکن کوشش کی، جھوٹ نہیں بولا، چوری نہیں کی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا ہمیشہ وہ کیا جو ایک اچھے انسان کو کرنا چاہئے.... ہمیشہ دوسروں کے لئے.... اور ٹرین آ گئی....٭٭٭٭
Tuesday, April 29, 2008
Friday, April 25, 2008
Khai-Kay Pan Banaras Wala By Wajahat A Abbasi
کھئی کے پان بنارس والا
اندازِ بیاں اور
........ وجاہت علی عباسی
ہمارے والد کے ایک دوست جن کی انگریزی کوئی بہت قابل ذکر نہیں تھی، کئی سال پہلے لندن میں گرفتار کرکے اس لئے واپس پاکستان بھیج دئیے گئے کیونکہ وہاں کے مقامی لوگوں نے انہیں سڑک پر کئی بار خون تھوکتے دیکھا تھا اور پولیس کی پرزور زبردستی کے باوجود وہ صاحب مان کر نہیں دئیے کہ انہیں کوئی بیماری ہے۔ جب میڈیکل جانچ سے کچھ نہیں پتہ چلا تو انہیں اس خوف سے ڈیپورٹ کردیا گیا کہ کہیں کوئی نئی بیماری لندن میں نہ پھیل جائے۔ انگریزوں کے حساب سے مریض خون تھوکنے کے علاوہ ایک عجیب و غریب حرکت بھی کرتا ہے، یعنی مریض سے کچھ بھی پوچھا جائے تو وہ ہر سوال سننے کے بعد اپنے ہاتھ کی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور بار بار ”پان پان“ بولتا ہے، افسوس جن انگریزوں کو ہم اتنی اچھی طرح سمجھتے ہیں، وہ ہمارے ایک چھوٹے سے ”پان“ کو نہیں سمجھ پائے۔ انگریزوں کی کم عملی کی وجہ سے ہمارے والد کے دوست کو منہ سے پان اور انگلستان کے ویزے سے ہاتھ دھونا پڑے۔1968ءمیں ہندی فلم ہیرو دیوآنند کیلے ایک گانا بنایا گیا جس کے بول تھے ”کھئی کے پان بنارس والا“ دیو صاحب گانا سنتے ہی آگ بگولہ ہوگئے ”ہیرو پان کیسے کھا سکتا ہے؟ یہ فلم اس گانے کی وجہ سے فلاپ ہوجائے گی“ کہتے ہوئے گانا فلم میں ڈالنے سے انکار کردیا۔ اس طرح دس سال بعد امیتابھ کو موقع ملا ”چھورا گنگا بنارے والا“ بننے کا یعنی 1978ءکے سبھی ایوارڈز اس گانے کو ملے جو امیتابھ پہ فلمایا گیا۔ دس سال پہلے لگا پان امیتابھ کی زندگی میں کیسا رنگ لایا، یہ تو سب جانتے ہیں مگر ہم میں سے کئی لوگ یہ نہیں جانتے کہ آخر پان آیا کہاں سے؟پان کا ذکر پرانی ہندو کتابوں میں کوئی پانچ ہزار سال پہلے سے ملتا ہے۔ مگر پان کی اصلی شہرت مغلوں کے زمانے میں شاہ جہاں کی والدہ ملکہ نور جہاں کی وجہ سے ملی یہ وہ زمانہ تھا جب میک اپ کرنے کے لیے خواتین قدرتی اجزاءاستعمال کرتی تھیں۔ نور جہاں کو یہ علم ہوگیا کہ پان کے پتے پر کچھ خاص چیزیں لگا کر کھانے سے ہونٹ لال ہو جاتے ہیں۔ نور جہاں سے شروع ہوئی تہذیب پورے ہندوستان میں پھیل گئی اور پھر ہر خاتون اپنے حسن کو نکھار دینے کے لیے پان کھاتیں۔پان نے کچھ کے لیے اچھا کیا تو کچھ کے لیے برا‘ پرانے زمانے میں اکثر مثالیں ایسی ملتی ہیں جب لوگوں نے اپنے دشمنوں کو ختم کرنے کے لیے دعوتوں میں پان میں زہر ملا کر کھلا دیا۔ اس لیے آج بھی ہندوستان میں کسی کو مارنے کے لیے دی گئی رقم کو ”سپاری“ کہا جاتا ہے۔ کئی سالوں میں ہر پکا رنگ یا تو دھندلا ہوگیا یا پھر مٹ گیا لیکن پان کا چڑھا رنگ پھر کبھی برصغیر پر سے نہیں اترا۔دنیا میں سب سے زیادہ پان ہندوستان میں کھایا جاتا ہے خاص کرکے لکھنو¿ میں جہاں پان کھانا ایک ثقافت ہے گھر آئے مہمانوں کو پان کے ساتھ خوش آمدید کہا جاتا ہے اور کھانے کے بعد اگر پان نہ پیش کیا جائے تو لوگ اسے مہمان نوازی میں کمی سمجھتے ہیں۔ ہندوستان سے پان چاروں طرف پھیلا ہے یہاں تک کہ برما میں ساٹھ کی دہائی میں ہر گھر میں ایک پان دان ہونا لازمی تھا جو وہاں کوئیٹ کے نام سے مشہور تھا۔ سب سے زیادہ پان بنگلہ دیش سے دنیا بھر میں بھیجا جاتا ہے۔ آج بنگلہ دیش کے کئی گاﺅں کا ذریعہ معاش صرف پان بیچنا ہے۔پان کے تین مختلف قسموں کے پتے ہوتے ہیں بنارسی جو ہلکے ہرے رنگ کا ہوتا ہے۔ کلکتہ جو گہرے ہرے رنگ کا ہوتا اور مگھئی جو دونوں رنگوں میں ہوتا ہے مگر سائز میں کافی چھوٹا پان کے ذائقوں کی سینکڑوں قسمیں ہیں۔ جیسے سلیمانی سادہ‘ میٹھا 120‘ 300‘ بھولا‘ تمباکو والا وغیرہ وغیرہ ان عام اقسام کے علاوہ ہر پان والے کا کوئی سپیشل پان ضرور ہوتا ہے جو صرف اس کے پاس ہوتا ہے جسے پاکستان میں سبے سے مہنگا ملنے والا پان کراچی کے پی آئی ڈی سی ہاﺅس میں ہے۔ اس پان کو بنانے میں کریمل‘ شہد کا سیرپ اور چاکلیٹ کا استعمال کیا جاتا ہے ایک پان کی قیمت 75 روپے ہے۔پان والوں کی بات نکلی ہے تو دنیا کے سب سے مشہور پان والے کا ذکر تو ہونا ہی چاہیے ممبئی کے پوش علاقے وارڈن روڈ پر مقیم پان والا جے شنکر تیواری جو مجھڑ پان والے کے نام سے مشہور ہے آج پان کی دنیا کا سب سے بڑا ”ستارہ“ ہے۔ لاکھوں لوگ روز ان کی دکان سے پان کھاتے ہیں۔ ہزاروں شادیوں میں بڑے بڑے فنکشن میں لوگوں کو پان کھلانے کے علاوہ وہ واحد شخص ہیں جن کی پان کی دکان انٹرنٹ پہ بھی ہے۔سب بدل گیا محل مکان ہوگئے دربار لونگ روم ہوگئے‘ تخت صوفے ہوگئے۔ روز کھانے کی دعوتیں دو منٹ والی میگی نوڈلز میں بدل گئیں سونے کی تار سے سلی پوشاکیں‘ ٹی شرٹ اور جینز بن گئیں۔ وہ بڑے بڑے مشاعرے اور واہ واہ کی گونجیں ساٹھ منٹ کی ایم پی نفری سی ڈی ہوگئے۔ وقت کیا بدلا ہمارے لیے سب بدل گیا یہ گزرے ہوئے کل کے شہنشاہ جن کی ایک انگلی کے اشارے پر ہزاروں لوگوں کی دنیا بدل جاتی آج انٹرنیٹ کے سامنے انگلی سے کلک کلک کرتے اپنی کھوئی ہوئی طاقت کے نقوش ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ وہ اربوں روپے کے موتی جو بہتر مستقبل کے لیے جمع کیے گئے تھے۔ صرف کتابوں میں رہ گئے اور وہ واحد چیز جس نے محلوں سے آج تک ہمارے لیے خود کو محفوظ رکھا وہ پان تھا ہم چاہے جتنے بھی بدل جائیں اس صدیوں سے ہمارا ساتھ دیتے پان کو کبھی کسی چیونگم‘ چاکلیٹ کی بلی نہیں چڑھائیں گے۔
Wednesday, April 23, 2008
Tuesday, April 22, 2008
وجاہت علی عباسی
مان نہ مان میں تیرا مہمان
کوئی پندرہ بیس سال پہلے جب پاکستان سے کوئی جدہ نوکری کرنے جا رہا ہوتا تو اس کے سب ملنے والے اس غمزدہ انداز سے الوداع کہتے کہ اگر وہ کوئی فلم کا سین ہوتا اور ہم فلم دیکھنے والے تو ہمیں یقین ہوجاتا کہ سین میں نظر آنے والے لوگ جدہ والی پارٹی سے پھر نہیں ملیں گے۔ وداعی پر ایسے دکھ بھرے چہرے کہ جیسے ان کی لڑکی کہیں ظالم سسرال میں شادی کرکے جا رہی ہے مگر یہاں تو لڑکے کی نوکری جدہ میں لگی ہے، پھر اتنا غم کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہوتی تھی کہ اس زمانے میں خط و کتابت اور فون کے ذرائع بہت ہی محدود اور مہنگے ہوا کرتے تھے۔ فون کبھی کبھی اور خط کبھی نہیں ملنا ایک عام سی بات تھی۔ روز تو دور کی بات، مہینوں سالوں گزر جاتے اپنے عزیزوں سے بات ہوئے۔چلئے فلیش بیک سے واپس آتے ہیں اور آج کی بات کرتے ہیں۔ آج انپوں سے تو چھوڑیں پرایوں سے بات کرنا اتنا آسان ہوچکا ہے جس کی حد نہیں۔ بچپن میں ماں باپ بہت سی ایسی باتیں بچوں کو سکھاتے ہیں جو بڑے ہونے پر بچے یا تو بھول جاتے ہیں یا پھر ان باتوں کو یاد ہی نہیں رکھنا چاہتے ہیں جیسے ماں باپ بچوں سے کہتے ہیں کہ انجان لوگوں سے بات نہیں کرنی چاہئے مگر ہوا کچھ الٹ یعنی آج کل کے نوجوان جاننے والوں سے کم انجان لوگوں سے زیادہ باتیں کررہے ہیں۔ ہم بات کررہے ہیں انٹرنیٹ کی، ان ویب سائٹس کی جہاں لوگ جاکر اپنے اپنے پروفائل بناتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کو زبردستی دوستی کرنے پر مجبور کرتے ہیں، یعنی مان نہ مان میں تیرا مہمان۔face book، my space، orkut اور نجانے کیا کیا یہ ہیں ان ویب سائٹس کے نام جہاں آج کل ہر کوئی بلا کسی ڈر کے اپنا پورا پورا شجرہ لکھ دیتا ہے۔ نہیں نہیں صرف شجرے سے ہی دل نہیں بھرتا، لوگ اپنی کئی کئی تصویریں ڈالتے ہیں، کیا، کیوں اور کس لئے کس کے بارے میں سوچتے ہیں، سب لکھتے ہیں۔ گھر میں کون کون ہے اور کون نہیں ہے اور کون ہے جو نہیں ہونا چاہئے، سبھی کچھ دیتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ یعنی ایک انجان شخص کو یہ سب جاننے کیلئے کیا چاہئے؟ تو اس کا جواب ہے 10 ڈالر مہینے کا انٹرنیٹ اور بہت سا فضول وقت، بس اگر آپ کے پاس یہ دونوں چیزیں ہیں تو پھر آپ کو کسی بھی انجان نوجوان کے بارے میں وہ کچھ پتہ چل سکتا ہے جو شاید جان پہچان ہونے پر بھی آپ کبھی نہیں جان پاتے۔چلئے شروع سے شروع کرتے ہیں۔ دنیا کی سب سے پہلی سوشل نیٹ ورک کے نام پر 1998ءمیں کھلنے والی ویب سائٹ کا نام تھا myspace.com.... چین میں ایک دفعہ ایک پاگل بھاگتا جا رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر ایک دوسرا شخص بھی اس کے پیچھے بھاگنے لگا۔ پھر تیسرا اور اس طرح کچھ ہی گھنٹوں میں ہزاروں لوگ ساتھ ساتھ بھاگتے نظر آئے۔ اتنے لوگ ہونے کی وجہ سے کئی لوگوں کی کچلنے کی وجہ سے موت ہوگئی۔ اگست 2006ءمیں myspace پر ہالینڈ کے ایک نوجوان نے اپنا پروفائل بناکر myspace کے ممبرز کی گنتی پورے 100 ملین کردی یعنی وہ 300 ملین لوگ جو انٹرنیٹ روز استعمال کرتے ہیں، ان میں سے 100 ملین کو کروڑوں بیلوں سے کوئی ڈر نہیں ہے اسی لئے وہ تلے ہوئے ہیں کہ آبیل مجھے مار۔اس ویب سائٹ پر جاتے ہی سب سے پہلے یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ کس شخص کو ڈھونڈنا چاہتے ہیں؟ کھویا تو کوئی نہیں تھا لیکن پھر بھی چلئے فرض کرلیں کہ ہم وہاں ”قدوس“ لکھ دیتے ہیں تو دنیا میں جتنے بھی قدوس جنہوں نے اس ویب سائٹ پر اپنا پروفائل بنایا ہے، آکر ہمارے سامنے سکرین پر جمع ہوجائیں گے۔ ہر قدوس کو ہماری انگلی کے ایک اشارے کا انتظار اور وہ اپنی ساری زندگی کھول کر ہمارے سامنے رکھ دے گا۔ ہم اپنی انگلی سے ماﺅس کے بٹن کو ایک پروفائل پر کلک کرتے ہیں تو سب سے پہلے قدوس صاحب کی ان کے حساب سے مسکراتی حسین تصویر آتی ہے، وہاں صرف انکی شکل ہی نہیں بلکہ عقل بھی دیکھی جاسکتی ہے یعنی ان کی کھلی کتاب زندگی ہمیں ایک ہی صفحے پر نظر آرہی ہوتی ہے۔ نام، کام، دام، عمر، کمر کچھ لکھنے سے نہیں چوکتے۔ قدوس صاحب اپنے بارے میں اور کوئی کسر رہ جاتی ہے تو وہ پوری کرتے ہیں، ان کے دوست۔قدوس صاحب کی فرینڈز لسٹ جی ہاں، وہ لوگ جو قدوس صاحب کو جانتے ہیں، ان کی فہرست سامنے نظر آرہی ہوتی ہے۔ قدوس صاحب کیا کیا کمال دکھا سکتے ہیں، وہ سب ان کے دوستوں نے وہاں پوری دنیا کیلئے چھوڑ رکھا ہوتا ہے۔ وہ کمال کے کرکٹر ہیں، غضب کے ایکٹر ہیں، بہت اچھی باتیں کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ زیادہ تر لوگوں نے اتنی تعریف لکھی ہوتی ہے کہ لگتا ہے کہ شاید آگے کہیں لکھا ہوگا کہ قدوس صاحب اُڑ بھی سکتے ہیں۔ اب وہ اصل میں اُڑ سکتے ہیں یا نہیں مگر انہوں نے کافی چیزیں لکھ چھوڑی ہوتی ہیں اپنا مذاق اڑوانے کیلئے، مثلاً میں مائیکل جیکسن کی طرح ڈانس کرسکتا ہوں، رفیع کی طرح گا سکتا ہوں، شیخ رشید کی طرح سیاست کرسکتا ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ کوئی اپنے گھر کا دروازہ بند کرکے کیسے پوری دنیا کے سامنے اپنی زندگی کھول سکتا ہے، اس کا مظاہرہ دیکھنا ہو تو آپ ضرور ان ویب سائٹس پر جائیے گا۔ اگر آپ کو اس طرح کی ویب سائٹس کا کوئی بھی فائدہ سمجھ میں آسکے تو ہم کو ضرور بتائیے گا۔ رابطہ کرنے کیلئے myspace پر وجاہت علی عباسی سرچ کرلیجئے گا۔٭٭٭
مان نہ مان میں تیرا مہمان
کوئی پندرہ بیس سال پہلے جب پاکستان سے کوئی جدہ نوکری کرنے جا رہا ہوتا تو اس کے سب ملنے والے اس غمزدہ انداز سے الوداع کہتے کہ اگر وہ کوئی فلم کا سین ہوتا اور ہم فلم دیکھنے والے تو ہمیں یقین ہوجاتا کہ سین میں نظر آنے والے لوگ جدہ والی پارٹی سے پھر نہیں ملیں گے۔ وداعی پر ایسے دکھ بھرے چہرے کہ جیسے ان کی لڑکی کہیں ظالم سسرال میں شادی کرکے جا رہی ہے مگر یہاں تو لڑکے کی نوکری جدہ میں لگی ہے، پھر اتنا غم کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہوتی تھی کہ اس زمانے میں خط و کتابت اور فون کے ذرائع بہت ہی محدود اور مہنگے ہوا کرتے تھے۔ فون کبھی کبھی اور خط کبھی نہیں ملنا ایک عام سی بات تھی۔ روز تو دور کی بات، مہینوں سالوں گزر جاتے اپنے عزیزوں سے بات ہوئے۔چلئے فلیش بیک سے واپس آتے ہیں اور آج کی بات کرتے ہیں۔ آج انپوں سے تو چھوڑیں پرایوں سے بات کرنا اتنا آسان ہوچکا ہے جس کی حد نہیں۔ بچپن میں ماں باپ بہت سی ایسی باتیں بچوں کو سکھاتے ہیں جو بڑے ہونے پر بچے یا تو بھول جاتے ہیں یا پھر ان باتوں کو یاد ہی نہیں رکھنا چاہتے ہیں جیسے ماں باپ بچوں سے کہتے ہیں کہ انجان لوگوں سے بات نہیں کرنی چاہئے مگر ہوا کچھ الٹ یعنی آج کل کے نوجوان جاننے والوں سے کم انجان لوگوں سے زیادہ باتیں کررہے ہیں۔ ہم بات کررہے ہیں انٹرنیٹ کی، ان ویب سائٹس کی جہاں لوگ جاکر اپنے اپنے پروفائل بناتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کو زبردستی دوستی کرنے پر مجبور کرتے ہیں، یعنی مان نہ مان میں تیرا مہمان۔face book، my space، orkut اور نجانے کیا کیا یہ ہیں ان ویب سائٹس کے نام جہاں آج کل ہر کوئی بلا کسی ڈر کے اپنا پورا پورا شجرہ لکھ دیتا ہے۔ نہیں نہیں صرف شجرے سے ہی دل نہیں بھرتا، لوگ اپنی کئی کئی تصویریں ڈالتے ہیں، کیا، کیوں اور کس لئے کس کے بارے میں سوچتے ہیں، سب لکھتے ہیں۔ گھر میں کون کون ہے اور کون نہیں ہے اور کون ہے جو نہیں ہونا چاہئے، سبھی کچھ دیتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ یعنی ایک انجان شخص کو یہ سب جاننے کیلئے کیا چاہئے؟ تو اس کا جواب ہے 10 ڈالر مہینے کا انٹرنیٹ اور بہت سا فضول وقت، بس اگر آپ کے پاس یہ دونوں چیزیں ہیں تو پھر آپ کو کسی بھی انجان نوجوان کے بارے میں وہ کچھ پتہ چل سکتا ہے جو شاید جان پہچان ہونے پر بھی آپ کبھی نہیں جان پاتے۔چلئے شروع سے شروع کرتے ہیں۔ دنیا کی سب سے پہلی سوشل نیٹ ورک کے نام پر 1998ءمیں کھلنے والی ویب سائٹ کا نام تھا myspace.com.... چین میں ایک دفعہ ایک پاگل بھاگتا جا رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر ایک دوسرا شخص بھی اس کے پیچھے بھاگنے لگا۔ پھر تیسرا اور اس طرح کچھ ہی گھنٹوں میں ہزاروں لوگ ساتھ ساتھ بھاگتے نظر آئے۔ اتنے لوگ ہونے کی وجہ سے کئی لوگوں کی کچلنے کی وجہ سے موت ہوگئی۔ اگست 2006ءمیں myspace پر ہالینڈ کے ایک نوجوان نے اپنا پروفائل بناکر myspace کے ممبرز کی گنتی پورے 100 ملین کردی یعنی وہ 300 ملین لوگ جو انٹرنیٹ روز استعمال کرتے ہیں، ان میں سے 100 ملین کو کروڑوں بیلوں سے کوئی ڈر نہیں ہے اسی لئے وہ تلے ہوئے ہیں کہ آبیل مجھے مار۔اس ویب سائٹ پر جاتے ہی سب سے پہلے یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ کس شخص کو ڈھونڈنا چاہتے ہیں؟ کھویا تو کوئی نہیں تھا لیکن پھر بھی چلئے فرض کرلیں کہ ہم وہاں ”قدوس“ لکھ دیتے ہیں تو دنیا میں جتنے بھی قدوس جنہوں نے اس ویب سائٹ پر اپنا پروفائل بنایا ہے، آکر ہمارے سامنے سکرین پر جمع ہوجائیں گے۔ ہر قدوس کو ہماری انگلی کے ایک اشارے کا انتظار اور وہ اپنی ساری زندگی کھول کر ہمارے سامنے رکھ دے گا۔ ہم اپنی انگلی سے ماﺅس کے بٹن کو ایک پروفائل پر کلک کرتے ہیں تو سب سے پہلے قدوس صاحب کی ان کے حساب سے مسکراتی حسین تصویر آتی ہے، وہاں صرف انکی شکل ہی نہیں بلکہ عقل بھی دیکھی جاسکتی ہے یعنی ان کی کھلی کتاب زندگی ہمیں ایک ہی صفحے پر نظر آرہی ہوتی ہے۔ نام، کام، دام، عمر، کمر کچھ لکھنے سے نہیں چوکتے۔ قدوس صاحب اپنے بارے میں اور کوئی کسر رہ جاتی ہے تو وہ پوری کرتے ہیں، ان کے دوست۔قدوس صاحب کی فرینڈز لسٹ جی ہاں، وہ لوگ جو قدوس صاحب کو جانتے ہیں، ان کی فہرست سامنے نظر آرہی ہوتی ہے۔ قدوس صاحب کیا کیا کمال دکھا سکتے ہیں، وہ سب ان کے دوستوں نے وہاں پوری دنیا کیلئے چھوڑ رکھا ہوتا ہے۔ وہ کمال کے کرکٹر ہیں، غضب کے ایکٹر ہیں، بہت اچھی باتیں کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ زیادہ تر لوگوں نے اتنی تعریف لکھی ہوتی ہے کہ لگتا ہے کہ شاید آگے کہیں لکھا ہوگا کہ قدوس صاحب اُڑ بھی سکتے ہیں۔ اب وہ اصل میں اُڑ سکتے ہیں یا نہیں مگر انہوں نے کافی چیزیں لکھ چھوڑی ہوتی ہیں اپنا مذاق اڑوانے کیلئے، مثلاً میں مائیکل جیکسن کی طرح ڈانس کرسکتا ہوں، رفیع کی طرح گا سکتا ہوں، شیخ رشید کی طرح سیاست کرسکتا ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ کوئی اپنے گھر کا دروازہ بند کرکے کیسے پوری دنیا کے سامنے اپنی زندگی کھول سکتا ہے، اس کا مظاہرہ دیکھنا ہو تو آپ ضرور ان ویب سائٹس پر جائیے گا۔ اگر آپ کو اس طرح کی ویب سائٹس کا کوئی بھی فائدہ سمجھ میں آسکے تو ہم کو ضرور بتائیے گا۔ رابطہ کرنے کیلئے myspace پر وجاہت علی عباسی سرچ کرلیجئے گا۔٭٭٭
Saturday, April 19, 2008
Friday, April 18, 2008
Wajahat Kaa Hai Andaz-e-Bayan Aur By Qamar Ali Abbasi
Printed in Urdu Times Newspaper (April 16th 2008 edition)
وجاہت کا اندازِ بیاں اور!
اور پھر بیاں اپنا .... قمر علی عباسی
ہم امروہہ میں پیدا ہوئے تھے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب بچہ پیدا ہو کر
ہم امروہہ میں پیدا ہوئے تھے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب بچہ پیدا ہو کر
پہلی بار روتا ہے ردیف قافیے کا خیال رکھتا ہے۔ یہ صحیح ہو یہ نہ ہو لیکن ایک بات ضرور ہے کہ امروہہ کے پانی میں شاعری، افسانہ نگاری اور ادب کے جراثیم بہتات میں ہوتے ہیں۔ دروغ بر گردن راوی مشہور ہے جو اس علاقے سے ایک بار گزر جائے برسوں ”مرضِ ادبی“ میں مبتلا رہتا ہے۔امروہہ آم اور روہو مچھلی سے مل کر بنا ہے۔ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے دہلی سے 50 میل دور اور مراد آباد سے 19 میل کے فاصلے پر اس شہر میں لوگ کم اور شاعر زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ باغوں، کھیتوں اور سوت ندی کا علاقہ ہے۔ ہمیں اس شہر میں پیدا ہونے کا اعزاز ہے۔ نجانے ہمیں پہلی مرتبہ ہاتھ میں لینے والی دایہ گنگنا رہی تھی یا افسانوی زبان بول رہی تھی ممکن ہے گھٹی میں قلم کی نوک ڈال دی ہو۔ کچھ بھی ہو جب ہوش آیا اپنے چارں طرف لوگوں کو پڑھتے لکھتے اور لفظوں کو اکٹھا کرتے دیکھا۔ پھر نجانے کب ہوا، کیسے ہوا، ہم نے بھی قلم ہاتھ میں لیا، نہ کسی بزرگ کو لکھ کر دکھایا نہ اسے اس قابل سمجھا کہ کوئی دوسرا پڑھے لیکن قدرت کا اصول ہے جب پھول کھلتے ہیں ،بارش ہوتی ہے، پرندے ایک ڈار بنا کر اڑتے ہیں تو نظر آتے ہیں۔ہمارے والد نے پاکستان کو قبول کیا اور اپنے محکمے کی طرف سے نئے ملک میں آگئے۔ ماحول بدل گیا۔ عبداللطیف بزرگ امروہہ کے مکانوں گلی کوچوں میں رہ گئے لیکن جتنا امروہہ کا پانی پیا تھا اپنے سینے میں اس کی ہوا داخل کی تھی وہ رہ گئی۔ ہمارا خاندان سندھ میں آکر بسا۔ یہ روایتوں کی، ثقافتوں کی اور شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی شاعری کی وادی ہے۔ ہم اس ماحول میں سانس لینے لگے اور پھر امروہہ کا پانی بزرگوں کا ورثہ ہمیں مل گیا۔ 55 سال پہلے ہم نے لفظوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا، جانے ان میں تاثیر تھی، کشش تھی یا صرف لفظ تھے یہ کبھی نہیں سوچا۔ زندگی سفر کا نام ہے۔ ہندوستان سے پاکستان اور پھر کولمبس کے دریافت کئے ہوئے ملک امریکہ آگئے۔ یہ سرزمین خوش نصیبی اور کامیابی کی کلید سمجھی جاتی ہے۔ یہاں آکر لوگ معاشی سرگرمیوں میں ڈوب جاتے ہیں اور جب سر باہر نکالتے ہیں تو زمانہ بدل چکا ہوتا ہے۔ وہ بچے جو اپنے ساتھ اپنی زبان بولتے ہوئے لاتے ہیں صرف انگریزی بولنے لگتے ہیں، یہ حالات اور وقت کا تقاضا ہے۔ہم اپنے خاندان، اپنے بزرگوں سے کبھی شرمندہ نہیں ہوئے، ان کے راستے پر چلے ان کی روایات برقرار رکھیں، وہ جس بات پر فخر کرتے تھے ہم نے اسے آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ ہم ددھیال، ننھیال اس بات پر ناز کرتے تھے کہ ان کے خاندان کے لوگ ادب میں دور تک جاتے ہیں۔ ہم نے اس راستے پر چلنے کی کوشش کی۔ دل میں ایک دبی دبی خواہش تھی کیا ہمارے خاندان کی صدیوں پرانی روایات ہمارے ساتھ سو جائیں گی؟ ہماری بڑی بیٹی ثوبیہ نے انگریزی میں لکھنا شروع کیا اور یہ سلسلہ ٹوٹ ٹوٹ کر جاری رہا لیکن یہ سب کچھ اس زبان میں تھا جس سے ہمارے بزرگ کبھی خوش نہیں تھے۔ چھوٹی بیٹی ماریہ نے بھی انگریزی میں لکھا۔ ایک دن ہم نے اپنے بیٹے وجاہت علی عباسی سے کہا ہماری ایک خواہش ہے تم اس راستے کو بند نہیں ہونے دینا جس پر ہمارے بزرگوں نے صدیوں کا سفر کیا ہے۔ ہمارا خیال تھا دنیا میں ہر خواہش پوری نہیں ہوتی۔ کتنے ایسے پھول ہیں جو ان دیکھی وادیوں میں کھل کر وہیں زندگی بِتا دیتے ہیں ان کا رنگ او ر مہک کوئی نہیں دیکھتا۔جب اللہ مہربان ہو، روشنی پھیلانا چاہے تو خواہشیں حقیقت بن جاتی ہیں۔ ہمارے بیٹے نے ایک کالم لکھا۔ ہم نے حیران ہو کر پڑھا اور اس کے ہر لفظ سے احساس ہوا کہ اس کے جسم میں امروہہ دوڑ رہا ہے۔ خاندان کے بزرگوں کی روایات اور ان کے قلم کی روشنائی گردش کر رہی ہے۔ ہم حیران تھے لفظوں کی تتلیاں مشکل سے ہاتھ آتی ہیں، لفظ کب قابو میں آتے ہیں۔ ہوا میں اڑتے پرندے اس طرح گرفت میں نہیں آتے لیکن وجاہت علی عباسی کا ہر لفظ اور ہر جملہ کہہ رہا تھا ”میں آپ کا بیٹا ہوں، امروہے کا بیٹا ہوں اور اپنے بزرگوں کا جانشیں ہوں“۔ سیاستدان کا بیٹا کسی کوشش کے بغیر رہنما بن جاتا ہے، جاگیردار کا فرزند پیدا ہوتے ہی جاگیردار بن جاتا ہے لیکن لفظوں کو جمع کرنے والا، انہیں اپنے جذبات و احساسات سے بھرنے والا بننا ایک مشکل کا ہے۔ کسی شاعر کا بیٹا وراثت میں شاعری حاصل نہیں کر سکتا، کسی افسانہ نگار کے بیٹے کو جائیداد میں باپ کا قلم نہیں مل سکتا۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ہے اور صرف جب اللہ چاہتا ہے تو علم و آگہی دیتا ہے۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے خاندان اور گھر سے ایک چراغ روشن ہوا ہے۔زندگی میں کچھ ایسے دن ہوتے ہیں جو ہمیشہ تروتازہ اور مہکتے رہتے ہیں۔ 5 اپریل 2008ءکا دن ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ ہمارے بیٹے وجاہت علی عباسی کے کالموں کے مجموعے ”انداز بیاں اور“ کی تقریب پذیرائی تھی۔ ہمیں اس تقریب میں آنےوالے سب لوگ بہت اچھے لگے جنہوں نے تقریریں کیں، کتاب خریدی۔ وہ ہمارے دل میں آئے اور ہمارے ہو گئے۔ ہم اس موقع پر صرف ایک ہی بات کہہ سکتے ہیں ہمارے بیٹے وجاہت علی عباسی کا واقعی ”انداز بیاں اور ہے“۔
Raju Ban Gaya Gentleman By Wajahat Ali Abbasi On His Book Launch
راجو بن گیا جنٹلمین
وجاہت علی عباسی
کرچی کی وہ شور مچاتی گرم دھوپ کے ڈھلتے دھبے سے اسی شام کا آ جانا جو روز ہمیں اس بات پر قائل کرتی کہ یہ شام اس شہر کا مزاج ہے سورج کا اتار چڑھاﺅ نہیں وہ سڑکوں پر بسوں میں لٹکتے گھر لوٹتے لوگ....گلیوں سے واپس جاتے ٹھیلے والے....بچوں کا میدان میں کرکٹ جلدی جلدی اس ڈر سے کھیلنا کہ شام جلدی نہ گزر جائے.... مٹھائی کی دکان کے باہر سموسے اور جلیبی خریدنے والوں کا گرم سموسے کا انتظار کرنا اور پنچھیوں کا اپنے اپنے گھر کی طرف لوٹ جانا.... کچھ اسی طرح میرا شہر روز اپنی شامیں مناتا۔میں اور میرا دوست انصب روز شام اپنے محلے کی چھت پر جا کر بیٹھتے‘ وہ ہماری باتیں شاید کہیں بھی بیٹھ کر کی جا سکتی تھیں لیکن چھوٹی سی زندگی رکھنے والی اس شام کے ساتھ بھرپور وقت گزارنے کی چاہت صرف چھت پر بیٹھ کر پوری ہوتی۔ ہماری بلڈنگ سے تھوڑی دور مگر صاف نظر آنے والا قائداعظم کا مزار شام میں اور بھی حسین لگتا۔ شاید یہ محض اتفاق تھا مگر محلے کی چھت پر ہم کہیں بھی بیٹھ جائیں مجھے اور انصب کو ایسا لگتا جیسے قائداعظم کا مزار ہمارے ساتھ ساتھ ہے۔ ہم دونوں روز شام کئی کئی گھنٹے قائداعظم کے مزار کے ساتھ تکون بنائے بیٹھے باتیں کرتے۔کہتے ہیں کہ انسان اپنی محبت سے جانا جاتا ہے اور ہماری محبت اس شخص کی تھی جو دنیا کے سب سے عظیم انسانوں میں سے ایک تھا۔ ہم بہت باتیں کرتے تھے‘ قصے کہانیاں‘ ہنستے مسکراتے۔ سب چلتا لیکن پھر ہم پر محبت کا اثر ہونے لگا‘ ہماری سوچ کا جھکاﺅ ”میں“ سے ”ہم“ اور پھر ”ہمارے“ میں بدل گیا.... ہمارا پاکستان....ہم پاکستان کے لیے ضرور کچھ کریں گے۔ ہر دوسرے دن ہمیں کسی بھی دوسری بات سے زیادہ مزہ آتا‘ یہ بات کرنے میں کہ پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے ہم کیا کیا کر سکتے ہیں۔ وہ شامیں جو ہماری عمر کے کئی نوجوان سمندر کے کنارے جاتے یا اپنے دوستوں کے ساتھ گاڑیوں میں گھومنا پسند کرتے میں اور انصب چھت کی زمین پہ بیٹھ کر ہوا میں اڑنے کا ارادہ کرتے۔وہ شام مجھے آج بھی یاد ہے جب میں کئی سال پہلے محلے کی چھت پر آخری بار گیا تھا‘ میں امریکہ جا رہا تھا آنے والی صبح میرے لیے ایک نئی زندگی لا رہی تھی وہ آخری شام کے ڈھلتے میں نے قائداعظم کے مزار کو دیکھتے دل ہی دل میں ایک وعدہ کیا کہ آپ کا یہ بیٹا کبھی اپنی محبت نہیں بدلے گا جہاں بھی جاﺅں گا میں پاکستانی ہی رہوں گا اور اب اس چھت پر تب واپس آﺅں گا جب میں اپنی اس بات کوصحیح ثابت کر سکوں‘ اس چھت پر میرے دوست محبت ہی نہیں میری عادت بھی تھے وہاں سے آنا مشکل تھا لیکن میں رویا نہیں روتے وہ ہیں جو کچھ کھو دیتے ہیں اور میں وہاں سے بہت کچھ پا کے جا رہا تھا۔پچھلے ہفتے میری کتاب ”انداز بیاں اور“ کا افتتاح نیویارک میں ہوا سب سے پہلے انصب اسٹیج پہ بولنے کے لیے آیا اور اس نے شروع کیا یہ کہتے کہ ”ہم کراچی میں چھت پر بیٹھا کرتے تھے“ میں مسکرا دیا‘ لگا کہ زندگی اتنی زیادہ بدلنے کے باوجود ہم کامیاب ہوگئے اپنی محبت نہ بدلنے میں‘ میرے سامنے نیویارک کا اردو کا ہر بڑا ادیب‘ دانشور‘ شاعر اور اہم انسان بیٹھا تھا کئی ایسے لوگ جنہیں میں نے درجنوں تقریبوں میں بولتے سنا‘ جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا آج میرے لیے اسٹیج پر کھڑے بول رہے تھے۔میں ان سب لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مجھے میرا پہلا قدم آگے بڑھانے میں مدد کی ایک چھوٹے سے بچے کو اگر اتنے سارے مضبوط لوگوں نے ایک ساتھ تھاما ہوا ہو تو وہ کیسے گر سکتا ہے؟ میں نیویارک آ کر اکیلا کچھ نہیں کر پاتا اگر وہ سب لوگ نہیں ہوتے جو اس دن اپنی اپنی تقریر میں میری کامیابی کا سہرا صرف مجھے دے رہے تھے ۔میں زندگی کی کامیابیوں میں چاہے جتنا بھی آگے نکل جاﺅں لیکن وہ لوگ جو میری پہلی کتاب کی تقریب میں موجود تھے میرے آگے بڑھتے ہر قدم کے ذمے دار ہوں گے۔پوری دنیا کے سبھی اردو اخباروں اور WEB SITE پر میری کتاب کی جتنی بھی کوریج آئی ہے میں اپنے پاس ضرور محفوظ کرکے رکھوں گا کیونکہ اس بار میں کراچی جاﺅں گا تو ضرور اپنے پرانے محلے کی چھت پر یہ چیزیں لیکر جاﺅں گا اور قائداعظم کے مزار کے سامنے وہ سب پڑھ کر سناﺅں گا‘ میں بتاﺅں گا کہ امریکہ میں رہنے والے پاکستانیوں نے کیسے مجھے قدم قدم چلنا سکھایا اور یہاں تک پہنچایا کہ میں ایک نام ”وجاہت“ سے آج پوری کتاب ہوگیا‘ میرے کئی سال پہلے دیکھے خواب کو سچ کرنے کا آپ سب کا شکریہ‘ پچھلی بار میں چھت سے اکیلا اترا تھا مگر اب میرے ساتھ ہزاروں لوگوں کا پیار ہے اس بار چھت سے نیچے اترتے چاہے میں جتنا بھی اونچا ارادہ کیوں نہ کر لوں میں جانتا ہوں کہ امریکہ کی پاکستانی کمیونٹی مجھے کبھی ہارنے نہیں دے گی۔
Thursday, April 17, 2008
Subscribe to:
Posts (Atom)





































