Wednesday, May 21, 2008

Miss Pakistan ? By Wajahat Ali Abbasi

یجیو ٹی وی پر صبح آنے والے ٹی وی پروگرام نادیہ خان شو کی شام میں
پچھلے ہفتے ہم شام میں اس لئے دیکھنے لگے کیونکہ لگا نادیہ سیلاب Repeat
زدگان کی تاج پوشی کر رہی ہیں۔ ایک ضرورت سے زیادہ پتلی محترمہ سر پر تاج پہنے بیٹھی تھیں انکے برابر ایک کافی صحت مند خاتون موجود تھیں جو یقیناً کسی کشتی کے مقابلے میں حصہ لینے والی تھیں اور تیاری وہ ٹی وی پر ہمارے یعنی ناظرین کے ساتھ کر رہی تھیں تکلیف دہ حد تک پتلی خاتون نے اپنے اردگرد پٹا ڈالا ہوا تھا جس پر بڑا بڑا پاکستان لکھا ہوا تھا۔ انکے مستقل اترانے کی کوشش کرنے سے ہمیں یہ تو اندازہ ہو گیا کہ انکے ٹی وی پر آنے کی وجہ سیلاب نہیں ہے۔ اگلے پانچ منٹ کے اندر ہمارے چھکے اور ہنسی دونوں چھوٹ گئے جب آواز آئی کہ ”میں Miss Pakistan Canada ہوں“۔ فاطمہ جناح کو مادرِ ملت ماننے والے پاکستان کو محترمہ یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی کہ ہم انہیں کیوں Miss Pakistan مان لیں۔ وہ ”مِس“ جن کے ساتھ ہم کبھی ”پاکستان“ نہیں لگنے دیں گے، پہلوان ان محترمہ سے زیادہ بدتمیز تھیں یا کم بتانا مشکل ہے۔ چلئے سب سے پہلے ہم آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ بیوٹی پیمبنٹ ہوتا کیا ہے اور پھر بتائیں گے کہ صوفے پر بیٹھی محترمہ کیا ہیں۔ مِس یونیورس اور مِس ورلڈ 1951ءسے شروع ہونے والے دو ایسے پیمبنٹ ہیں جنہیں پوری دنیا میں مانا جاتا ہے۔ ہر سال مِس ورلڈ بننے والی لڑکی لندن میں اور مِس یونیورس بننے والی نیویارک میں اگلے ایک سال کینسر، ایڈز، غربت جیسے مختلف کاموں میں اپنا وقت دنیا بھر کی عورتوں کو دیتی ہے۔ ان دونوں ہی مقابلوں میں شامل ہونے کے لئے لڑکیوں کو اپنے ملک میں رہتے ہوئے پہلے اپنے ملک میں پیمبنٹ جیتنے ہوتے ہیں یعنی مِس ورلڈ میں جانے کے لئے انڈین لڑکی کو انڈیا میں مِس انڈیا پیمبنٹ جیتنا لازمی ہے۔ 1953ءکی مِس امریکہ نے پہلی بار ہونے والے مِس یونیورس مقابلے میں سوئم سوٹ پہننے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا میں نہیں چاہتی دنیا امریکن لڑکی کو اس طرح کے لباس میں دیکھے۔ چلئے آج ہم آپ کو ان پاکستانیوں سے ملواتے ہیں جو پاکستان کا مطلب بھول چکے ہیں اور بحث کرتے ہیں کہ پاکستانی لڑکی کا سوئم سوٹ پہن کر پاکستانی جھنڈے کے ساتھ دنیا کے سامنے آنے سے ہم باقی ملکوں کے ساتھ قدم سے قدم ملانے میں کامیاب ہونگے۔ Miss Pakistan Canada اس شو کا نام ہے جس کے ذریعے کچھ پاکستانی ٹورنٹو میں ہر سال اپنی قوم کو شرمندہ کرتے ہیں۔ اس میں حصہ لینے کے لئے نہ ہی آپ کو ”پاکستانی“ ہونے کی ضرورت ہے نہ ہی ذہین اور نہ ہی خوبصورت۔ بس اگر آپ لڑکی ہیں تو کافی ہے۔ پہلے تو اِن چار پانچ لڑکیوں کو مِس ورلڈ مقابلے کی صبح شام ویڈیو دکھائی جاتی ہے پھر اِن لڑکیوں کو ایک ہال میں کھڑا کر کے یہ کہا جاتا ہے کہ دل ہی دل میں سوچ لو جیسے تم مِس ورلڈ مقابلے میں حصہ لے رہی ہو پھر دل میں ارمان بھری اِن لڑکیوں کی مختلف لباس میں تصویریں لی جاتی ہیں اور پھر ہرممکنہ کوشش کی جاتی ہے کہ یہ تصویریں کہیں چھپ جائیں۔ 2002ءسے یہ سلسلہ جاری ہے لیکن نہ ہی انکو کسی نے پاکستان میں اور نہ ہی یہاں کسی پاکستانی کمیونٹی نے گھاس ڈالی۔ اب سوال تھا مشہور کیسے ہوا جائے؟ پبلک کی نظروں میں کیونکر آیا جائے۔ مِس کاش.... میں بھی کچھ بن سکوں.... نے مشہور ہونے کے لئے صدر پرویز مشرف کو نشانہ بنایا۔ یہ محترمہ پچھلے مہینے چین کے ایک چھوٹے سے مقابلے میں سوئم سوٹ پہن کر پاکستانی جھنڈا اور صدر کی تصویر کی طرف فلائنگ کِس دیتے چین کو یہ بتا رہی تھیں کہ پاکستان کیا ہے جی ہاں وہی چین جو پچھلے کئی سالوں سے پاکستان کا سب سے قریبی دوست ہے اور پاکستان کو اچھی طرح جانتا ہے۔ ٹی وی شو میں وہ خود اور انکے ساتھ Miss Pakistan Canada کرانے والی محترمہ ہر کالر سے بری طرح بحث کرتیں جب کوئی انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتا کہ جو وہ کر رہی ہیں غلط ہے۔ اگر کسی نے کہا پاکستانی مسلمان ہو کر خود کو دنیا کے سامنے کم کپڑوں میں نمائش کرنا انتہائی شرمندگی کا مقام ہے تو Organiser جو شاید چین سے ”سومو ریسلنگ“ جیت کر آئی تھیں ہر کال کے سوال پر ایسے بدتمیزی کرتیں جس سے لگتا ابھی سکرین سے باہر نکل کر منہ نوچ لیں گی۔ مِس اپنے منہ میاں مٹھو.... جو صرف چھ سال پہلے کراچی کے کسی چھوٹے سے علاقے سے کینیڈا آئیں ہیں ہنس کی چال چلنے کے چکر میں کیا اور کیسے بولنا ہے کی تمیز نہیں رکھتی ہیں نادیہ خان نے ان سے مزدور بھائیوں کو لیبر ڈے پر کوئی پیغام دینے کو کہا یعنی وہ دن جو ہزاروں مزدوروں کو مار دینے کے سوگ میں منایا جاتا ہے.... تو وہ ٹی وی کی طرف منہ کر کے مزدور بھائیوں سے فرماتی ہیں Enjoy your day..... it's your day جو دو جملے بول نہیں سکتی کیسے پاکستان کی respect کرنے کا سوچ رہی ہے۔ نادیہ خان نے دو دن پہلے پروگرام میں بتایا کہ دبئی ایئرپورٹ میں ان دونوں نے خواہ مخواہ ایئرپورٹ انتظامیہ سے بدتمیزی کی گالیاں دیں اور دبئی پولیس نے اس جرم میں انہیں ساری رات ایئرپورٹ پر بٹھائے رکھا اور معافی مانگنے کو کہا انکے معافی نہ مانگنے پر جیو ٹی وی کو دبئی ایئرپورٹ والوں سے معافی مانگنی پڑی اور اللہ اللہ کرتے انہیں دبئی سے رخصت کیا۔ جو لڑکی پاکستان کا نام اپنے ساتھ لگا کر بہت ہی کم کپڑوں میں سب کے سامنے بیلی ڈانس کرنے کو پاکستانی ثقافت سمجھے اس سے ہم کو یہی امید تھی۔ ٭٭٭٭٭

Tuesday, May 13, 2008

Brookly NY - Andaz-e-Biyan aur Book function pic3


Brookly NY - Andaz-e-Biyan aur Book function pic2


Brookly NY - Andaz-e-Biyan aur Book function


آج کی تازہ خبر -By Wajahat Ali Abbasi

وجاہت علی عباسیپ

چھلے ہفتے پاکستان میں شائع ہونے والے شام کے ایک اخبار میں چھوٹی سی ایک خبر چھپی.... ایک آدمی نے اپنی بیوی اور دو بچوں سمیت چلتی ٹرین کے نیچے لیٹ کر اپنی جان دے دی۔ خبر اتنی چھوٹی تھی کہ شاید وہ بڑی بڑی شخصیات کی رنگین تصویروں کے ساتھ چھپنے کی وجہ سے صفحے پر سامنے ہونے کے باوجود کچھ گم سی گئی۔ آئیے آج ہم آپ کو اس چھوٹی سی خبر والے شخص سے ملائیں جو اپنی پوری زندگی سمیٹے ٹرین کی پٹڑی پر لیٹا موت کا انتظار کر رہا ہے۔ ”ابو میں اسکول نہیں گیا تو بھی اپنی محنت سے کامیاب انسان بن جاﺅں گا“ یہی کہتا تھا وہ پانچ سال کا سلیم جو جانتا تھا کہ اس کے والد ایک غریب، اخبار کی دکان پر کام کرنے والے ہیں اور چاہتے ہوئے بھی اپنے بیٹے کو اسکول نہیں بھیج سکتے ہیں۔ اپنے والد کے ساتھ دکان پر بیٹھا وہ جب دوسرے بچوں کو اسکول جاتے دیکھتا تو اس کے والد کو اپنی بے بسی پر تکلیف نہ پہنچے اس لئے فوراً ایک اخبار اٹھاتا اور کہتا ”ابو دیکھ لیجئے گا ایک دن آپ کے بیٹے کا نام بھی اس اخبار میں ضرور چھپے گا۔ سلیم احمد کا نام اس ملک کے بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ چھپے گا“ سلیم کے بے بس والد یہ جاننے کے باوجود کہ ان کے بیٹے کی ہر ضرورت کا انحصار ان پر ہی ہے مسکرا دیتے اور کہیں دل کے گوشے میں یہ یقین رکھتے کہ سلیم کی کہی بات ایک دن سچ ہو گی۔ آٹھ سال کی عمر سے سلیم نے پھول بیچنا شروع کر دئیے وہ بھیک نہیں مانگے گا.... پڑھ تو نہیں پایا تھا لیکن اس کے والد کی دکان کے پاس چائے کے ڈھابے پر رکھے ٹی وی نے اسے بہت کچھ سکھایا۔ قائداعظم، لیاقت علی خان اور علامہ اقبال کے کئی اقوال اسے زبانی یاد تھے۔ محنت سے قومیں آگے بڑھتی ہیں.... یہی تھا ان قولوں کا حاصل۔ سلیم صبح چار بجے اٹھتا ‘خود پھول چنتا ‘اس سے ہار بناتا اور پھر سارا دن اپنے ننھے ہاتھوں میں پھول تھامے ان گزرتی گاڑیوں کو امید سے دیکھتا جن میں اسی کی عمر کے بچے اسکول جا رہے ہوتے۔ امید اس بات کی کہ اس کی محنت کا پھل اسے ملے یعنی کوئی اس سے پھول خریدے بہت زیادہ ضرورت ہونے کے باوجود جب کوئی اسے پھول کی قیمت سے زیادہ پیسے دینے کی کوشش کرتا تو وہ مسکرا کر یہ کہہ کر لوٹا دیتا کہ مجھے میری محنت کا صلہ مل گیا ہے وہ عمر جب بچے بازار میں ملنے والی ہر چیز خریدنے کی والدین سے ضد کرتے ہیں اسی عمر میں سلیم کی زندگی کا سب سے اچھا دن وہ تھا جب اس نے اپنے والد کو اپنی کمائی سے نیا قلم خرید کے دیا تھا۔ اس بات کو پچیس سال گزر گئے وہ قلم آج بھی سلیم کے پاس ہے جو اس نے اپنے والد کو بچپن میں خرید کے دیا تھا۔ شاید اس قلم کو دیکھ کر اسے کبھی کبھی لگتا ہے کہ کامیابی کی طرف کم سے کم اس نے ایک قدم تو اٹھایا تھا۔ سلیم کی پھولوں سے شروع ہونے والی زندگی کو آج کے نظام نے روند کر رکھ دیا۔ سلیم آج سمجھ گیا ہے کہ غریب آدمی کا بیٹا صرف غریب آدمی بنتا ہے اور کچھ نہیں۔ سلیم کے بچے پچھلے کئی مہینوں سے ہفتے میں صرف ایک یا دو بار مشکل سے پیٹ بھر کے کھانا کھا پاتے ہیں ۔سلیم نے زندگی میں جو بھی کرنا چاہا.... اس کا اچھا قدم برے system کی بَلی چڑھ گیا‘ بچوں کو اسکول بھیجنا چاہا تو گورنمنٹ اسکول میں جگہ نہیں، پیسے جمع کر کے ٹھیلا لگایا تو وہ فساد کی نذر ہو گیا۔ قسطوں پر رکشہ خریدا تو وہ غلط کیس میں پولیس نے ضبط کر لیا۔ چھوٹی سے چھوٹی نوکری کرنی چاہی تو بغیر رشوت اور سفارش کے نہ ملی ہر نئی حکومت کے آنے پر مہنگائی کا مزید بڑھ جانا، سلیم روز اپنے بچوں کو بھوک سے مرتا دیکھتا روز اپنی سی ہر کوشش کر کے بھی سسٹم سے اتنا نہیں لڑ پاتا کہ اپنے بچوں کے لئے دو روٹیاں لا سکے۔ وہ روز اپنے بچوں کو مرتا نہیں دیکھ سکتا تھا سلیم کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو وہ سڑک پر اپنے بچوں سے بھیک منگوائے یا پھر....سلیم ریل کی پٹڑی پر لیٹا اپنی موت کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ خوش ہے کہ اس کے والد اب دنیا میں نہیں ہیں ورنہ کل ان کو اپنے بیٹے کا نام اخبار میں لکھا نظر آتا، اسے ناز ہے اس بات پر کہ وہ اچھا شہری بن پایا.... اس نے اپنی قوم کے لئے کچھ کرنا چاہا، اپنی سی ہر محنت کی اچھا بیٹا بنا، اچھا باپ بننے کی ہرممکن کوشش کی، جھوٹ نہیں بولا، چوری نہیں کی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا ہمیشہ وہ کیا جو ایک اچھے انسان کو کرنا چاہئے.... ہمیشہ دوسروں کے لئے.... اور ٹرین آ گئی....٭٭٭٭