Tuesday, April 29, 2008
Friday, April 25, 2008
Khai-Kay Pan Banaras Wala By Wajahat A Abbasi
کھئی کے پان بنارس والا
اندازِ بیاں اور
........ وجاہت علی عباسی
ہمارے والد کے ایک دوست جن کی انگریزی کوئی بہت قابل ذکر نہیں تھی، کئی سال پہلے لندن میں گرفتار کرکے اس لئے واپس پاکستان بھیج دئیے گئے کیونکہ وہاں کے مقامی لوگوں نے انہیں سڑک پر کئی بار خون تھوکتے دیکھا تھا اور پولیس کی پرزور زبردستی کے باوجود وہ صاحب مان کر نہیں دئیے کہ انہیں کوئی بیماری ہے۔ جب میڈیکل جانچ سے کچھ نہیں پتہ چلا تو انہیں اس خوف سے ڈیپورٹ کردیا گیا کہ کہیں کوئی نئی بیماری لندن میں نہ پھیل جائے۔ انگریزوں کے حساب سے مریض خون تھوکنے کے علاوہ ایک عجیب و غریب حرکت بھی کرتا ہے، یعنی مریض سے کچھ بھی پوچھا جائے تو وہ ہر سوال سننے کے بعد اپنے ہاتھ کی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور بار بار ”پان پان“ بولتا ہے، افسوس جن انگریزوں کو ہم اتنی اچھی طرح سمجھتے ہیں، وہ ہمارے ایک چھوٹے سے ”پان“ کو نہیں سمجھ پائے۔ انگریزوں کی کم عملی کی وجہ سے ہمارے والد کے دوست کو منہ سے پان اور انگلستان کے ویزے سے ہاتھ دھونا پڑے۔1968ءمیں ہندی فلم ہیرو دیوآنند کیلے ایک گانا بنایا گیا جس کے بول تھے ”کھئی کے پان بنارس والا“ دیو صاحب گانا سنتے ہی آگ بگولہ ہوگئے ”ہیرو پان کیسے کھا سکتا ہے؟ یہ فلم اس گانے کی وجہ سے فلاپ ہوجائے گی“ کہتے ہوئے گانا فلم میں ڈالنے سے انکار کردیا۔ اس طرح دس سال بعد امیتابھ کو موقع ملا ”چھورا گنگا بنارے والا“ بننے کا یعنی 1978ءکے سبھی ایوارڈز اس گانے کو ملے جو امیتابھ پہ فلمایا گیا۔ دس سال پہلے لگا پان امیتابھ کی زندگی میں کیسا رنگ لایا، یہ تو سب جانتے ہیں مگر ہم میں سے کئی لوگ یہ نہیں جانتے کہ آخر پان آیا کہاں سے؟پان کا ذکر پرانی ہندو کتابوں میں کوئی پانچ ہزار سال پہلے سے ملتا ہے۔ مگر پان کی اصلی شہرت مغلوں کے زمانے میں شاہ جہاں کی والدہ ملکہ نور جہاں کی وجہ سے ملی یہ وہ زمانہ تھا جب میک اپ کرنے کے لیے خواتین قدرتی اجزاءاستعمال کرتی تھیں۔ نور جہاں کو یہ علم ہوگیا کہ پان کے پتے پر کچھ خاص چیزیں لگا کر کھانے سے ہونٹ لال ہو جاتے ہیں۔ نور جہاں سے شروع ہوئی تہذیب پورے ہندوستان میں پھیل گئی اور پھر ہر خاتون اپنے حسن کو نکھار دینے کے لیے پان کھاتیں۔پان نے کچھ کے لیے اچھا کیا تو کچھ کے لیے برا‘ پرانے زمانے میں اکثر مثالیں ایسی ملتی ہیں جب لوگوں نے اپنے دشمنوں کو ختم کرنے کے لیے دعوتوں میں پان میں زہر ملا کر کھلا دیا۔ اس لیے آج بھی ہندوستان میں کسی کو مارنے کے لیے دی گئی رقم کو ”سپاری“ کہا جاتا ہے۔ کئی سالوں میں ہر پکا رنگ یا تو دھندلا ہوگیا یا پھر مٹ گیا لیکن پان کا چڑھا رنگ پھر کبھی برصغیر پر سے نہیں اترا۔دنیا میں سب سے زیادہ پان ہندوستان میں کھایا جاتا ہے خاص کرکے لکھنو¿ میں جہاں پان کھانا ایک ثقافت ہے گھر آئے مہمانوں کو پان کے ساتھ خوش آمدید کہا جاتا ہے اور کھانے کے بعد اگر پان نہ پیش کیا جائے تو لوگ اسے مہمان نوازی میں کمی سمجھتے ہیں۔ ہندوستان سے پان چاروں طرف پھیلا ہے یہاں تک کہ برما میں ساٹھ کی دہائی میں ہر گھر میں ایک پان دان ہونا لازمی تھا جو وہاں کوئیٹ کے نام سے مشہور تھا۔ سب سے زیادہ پان بنگلہ دیش سے دنیا بھر میں بھیجا جاتا ہے۔ آج بنگلہ دیش کے کئی گاﺅں کا ذریعہ معاش صرف پان بیچنا ہے۔پان کے تین مختلف قسموں کے پتے ہوتے ہیں بنارسی جو ہلکے ہرے رنگ کا ہوتا ہے۔ کلکتہ جو گہرے ہرے رنگ کا ہوتا اور مگھئی جو دونوں رنگوں میں ہوتا ہے مگر سائز میں کافی چھوٹا پان کے ذائقوں کی سینکڑوں قسمیں ہیں۔ جیسے سلیمانی سادہ‘ میٹھا 120‘ 300‘ بھولا‘ تمباکو والا وغیرہ وغیرہ ان عام اقسام کے علاوہ ہر پان والے کا کوئی سپیشل پان ضرور ہوتا ہے جو صرف اس کے پاس ہوتا ہے جسے پاکستان میں سبے سے مہنگا ملنے والا پان کراچی کے پی آئی ڈی سی ہاﺅس میں ہے۔ اس پان کو بنانے میں کریمل‘ شہد کا سیرپ اور چاکلیٹ کا استعمال کیا جاتا ہے ایک پان کی قیمت 75 روپے ہے۔پان والوں کی بات نکلی ہے تو دنیا کے سب سے مشہور پان والے کا ذکر تو ہونا ہی چاہیے ممبئی کے پوش علاقے وارڈن روڈ پر مقیم پان والا جے شنکر تیواری جو مجھڑ پان والے کے نام سے مشہور ہے آج پان کی دنیا کا سب سے بڑا ”ستارہ“ ہے۔ لاکھوں لوگ روز ان کی دکان سے پان کھاتے ہیں۔ ہزاروں شادیوں میں بڑے بڑے فنکشن میں لوگوں کو پان کھلانے کے علاوہ وہ واحد شخص ہیں جن کی پان کی دکان انٹرنٹ پہ بھی ہے۔سب بدل گیا محل مکان ہوگئے دربار لونگ روم ہوگئے‘ تخت صوفے ہوگئے۔ روز کھانے کی دعوتیں دو منٹ والی میگی نوڈلز میں بدل گئیں سونے کی تار سے سلی پوشاکیں‘ ٹی شرٹ اور جینز بن گئیں۔ وہ بڑے بڑے مشاعرے اور واہ واہ کی گونجیں ساٹھ منٹ کی ایم پی نفری سی ڈی ہوگئے۔ وقت کیا بدلا ہمارے لیے سب بدل گیا یہ گزرے ہوئے کل کے شہنشاہ جن کی ایک انگلی کے اشارے پر ہزاروں لوگوں کی دنیا بدل جاتی آج انٹرنیٹ کے سامنے انگلی سے کلک کلک کرتے اپنی کھوئی ہوئی طاقت کے نقوش ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ وہ اربوں روپے کے موتی جو بہتر مستقبل کے لیے جمع کیے گئے تھے۔ صرف کتابوں میں رہ گئے اور وہ واحد چیز جس نے محلوں سے آج تک ہمارے لیے خود کو محفوظ رکھا وہ پان تھا ہم چاہے جتنے بھی بدل جائیں اس صدیوں سے ہمارا ساتھ دیتے پان کو کبھی کسی چیونگم‘ چاکلیٹ کی بلی نہیں چڑھائیں گے۔
Wednesday, April 23, 2008
Tuesday, April 22, 2008
وجاہت علی عباسی
مان نہ مان میں تیرا مہمان
کوئی پندرہ بیس سال پہلے جب پاکستان سے کوئی جدہ نوکری کرنے جا رہا ہوتا تو اس کے سب ملنے والے اس غمزدہ انداز سے الوداع کہتے کہ اگر وہ کوئی فلم کا سین ہوتا اور ہم فلم دیکھنے والے تو ہمیں یقین ہوجاتا کہ سین میں نظر آنے والے لوگ جدہ والی پارٹی سے پھر نہیں ملیں گے۔ وداعی پر ایسے دکھ بھرے چہرے کہ جیسے ان کی لڑکی کہیں ظالم سسرال میں شادی کرکے جا رہی ہے مگر یہاں تو لڑکے کی نوکری جدہ میں لگی ہے، پھر اتنا غم کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہوتی تھی کہ اس زمانے میں خط و کتابت اور فون کے ذرائع بہت ہی محدود اور مہنگے ہوا کرتے تھے۔ فون کبھی کبھی اور خط کبھی نہیں ملنا ایک عام سی بات تھی۔ روز تو دور کی بات، مہینوں سالوں گزر جاتے اپنے عزیزوں سے بات ہوئے۔چلئے فلیش بیک سے واپس آتے ہیں اور آج کی بات کرتے ہیں۔ آج انپوں سے تو چھوڑیں پرایوں سے بات کرنا اتنا آسان ہوچکا ہے جس کی حد نہیں۔ بچپن میں ماں باپ بہت سی ایسی باتیں بچوں کو سکھاتے ہیں جو بڑے ہونے پر بچے یا تو بھول جاتے ہیں یا پھر ان باتوں کو یاد ہی نہیں رکھنا چاہتے ہیں جیسے ماں باپ بچوں سے کہتے ہیں کہ انجان لوگوں سے بات نہیں کرنی چاہئے مگر ہوا کچھ الٹ یعنی آج کل کے نوجوان جاننے والوں سے کم انجان لوگوں سے زیادہ باتیں کررہے ہیں۔ ہم بات کررہے ہیں انٹرنیٹ کی، ان ویب سائٹس کی جہاں لوگ جاکر اپنے اپنے پروفائل بناتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کو زبردستی دوستی کرنے پر مجبور کرتے ہیں، یعنی مان نہ مان میں تیرا مہمان۔face book، my space، orkut اور نجانے کیا کیا یہ ہیں ان ویب سائٹس کے نام جہاں آج کل ہر کوئی بلا کسی ڈر کے اپنا پورا پورا شجرہ لکھ دیتا ہے۔ نہیں نہیں صرف شجرے سے ہی دل نہیں بھرتا، لوگ اپنی کئی کئی تصویریں ڈالتے ہیں، کیا، کیوں اور کس لئے کس کے بارے میں سوچتے ہیں، سب لکھتے ہیں۔ گھر میں کون کون ہے اور کون نہیں ہے اور کون ہے جو نہیں ہونا چاہئے، سبھی کچھ دیتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ یعنی ایک انجان شخص کو یہ سب جاننے کیلئے کیا چاہئے؟ تو اس کا جواب ہے 10 ڈالر مہینے کا انٹرنیٹ اور بہت سا فضول وقت، بس اگر آپ کے پاس یہ دونوں چیزیں ہیں تو پھر آپ کو کسی بھی انجان نوجوان کے بارے میں وہ کچھ پتہ چل سکتا ہے جو شاید جان پہچان ہونے پر بھی آپ کبھی نہیں جان پاتے۔چلئے شروع سے شروع کرتے ہیں۔ دنیا کی سب سے پہلی سوشل نیٹ ورک کے نام پر 1998ءمیں کھلنے والی ویب سائٹ کا نام تھا myspace.com.... چین میں ایک دفعہ ایک پاگل بھاگتا جا رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر ایک دوسرا شخص بھی اس کے پیچھے بھاگنے لگا۔ پھر تیسرا اور اس طرح کچھ ہی گھنٹوں میں ہزاروں لوگ ساتھ ساتھ بھاگتے نظر آئے۔ اتنے لوگ ہونے کی وجہ سے کئی لوگوں کی کچلنے کی وجہ سے موت ہوگئی۔ اگست 2006ءمیں myspace پر ہالینڈ کے ایک نوجوان نے اپنا پروفائل بناکر myspace کے ممبرز کی گنتی پورے 100 ملین کردی یعنی وہ 300 ملین لوگ جو انٹرنیٹ روز استعمال کرتے ہیں، ان میں سے 100 ملین کو کروڑوں بیلوں سے کوئی ڈر نہیں ہے اسی لئے وہ تلے ہوئے ہیں کہ آبیل مجھے مار۔اس ویب سائٹ پر جاتے ہی سب سے پہلے یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ کس شخص کو ڈھونڈنا چاہتے ہیں؟ کھویا تو کوئی نہیں تھا لیکن پھر بھی چلئے فرض کرلیں کہ ہم وہاں ”قدوس“ لکھ دیتے ہیں تو دنیا میں جتنے بھی قدوس جنہوں نے اس ویب سائٹ پر اپنا پروفائل بنایا ہے، آکر ہمارے سامنے سکرین پر جمع ہوجائیں گے۔ ہر قدوس کو ہماری انگلی کے ایک اشارے کا انتظار اور وہ اپنی ساری زندگی کھول کر ہمارے سامنے رکھ دے گا۔ ہم اپنی انگلی سے ماﺅس کے بٹن کو ایک پروفائل پر کلک کرتے ہیں تو سب سے پہلے قدوس صاحب کی ان کے حساب سے مسکراتی حسین تصویر آتی ہے، وہاں صرف انکی شکل ہی نہیں بلکہ عقل بھی دیکھی جاسکتی ہے یعنی ان کی کھلی کتاب زندگی ہمیں ایک ہی صفحے پر نظر آرہی ہوتی ہے۔ نام، کام، دام، عمر، کمر کچھ لکھنے سے نہیں چوکتے۔ قدوس صاحب اپنے بارے میں اور کوئی کسر رہ جاتی ہے تو وہ پوری کرتے ہیں، ان کے دوست۔قدوس صاحب کی فرینڈز لسٹ جی ہاں، وہ لوگ جو قدوس صاحب کو جانتے ہیں، ان کی فہرست سامنے نظر آرہی ہوتی ہے۔ قدوس صاحب کیا کیا کمال دکھا سکتے ہیں، وہ سب ان کے دوستوں نے وہاں پوری دنیا کیلئے چھوڑ رکھا ہوتا ہے۔ وہ کمال کے کرکٹر ہیں، غضب کے ایکٹر ہیں، بہت اچھی باتیں کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ زیادہ تر لوگوں نے اتنی تعریف لکھی ہوتی ہے کہ لگتا ہے کہ شاید آگے کہیں لکھا ہوگا کہ قدوس صاحب اُڑ بھی سکتے ہیں۔ اب وہ اصل میں اُڑ سکتے ہیں یا نہیں مگر انہوں نے کافی چیزیں لکھ چھوڑی ہوتی ہیں اپنا مذاق اڑوانے کیلئے، مثلاً میں مائیکل جیکسن کی طرح ڈانس کرسکتا ہوں، رفیع کی طرح گا سکتا ہوں، شیخ رشید کی طرح سیاست کرسکتا ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ کوئی اپنے گھر کا دروازہ بند کرکے کیسے پوری دنیا کے سامنے اپنی زندگی کھول سکتا ہے، اس کا مظاہرہ دیکھنا ہو تو آپ ضرور ان ویب سائٹس پر جائیے گا۔ اگر آپ کو اس طرح کی ویب سائٹس کا کوئی بھی فائدہ سمجھ میں آسکے تو ہم کو ضرور بتائیے گا۔ رابطہ کرنے کیلئے myspace پر وجاہت علی عباسی سرچ کرلیجئے گا۔٭٭٭
مان نہ مان میں تیرا مہمان
کوئی پندرہ بیس سال پہلے جب پاکستان سے کوئی جدہ نوکری کرنے جا رہا ہوتا تو اس کے سب ملنے والے اس غمزدہ انداز سے الوداع کہتے کہ اگر وہ کوئی فلم کا سین ہوتا اور ہم فلم دیکھنے والے تو ہمیں یقین ہوجاتا کہ سین میں نظر آنے والے لوگ جدہ والی پارٹی سے پھر نہیں ملیں گے۔ وداعی پر ایسے دکھ بھرے چہرے کہ جیسے ان کی لڑکی کہیں ظالم سسرال میں شادی کرکے جا رہی ہے مگر یہاں تو لڑکے کی نوکری جدہ میں لگی ہے، پھر اتنا غم کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہوتی تھی کہ اس زمانے میں خط و کتابت اور فون کے ذرائع بہت ہی محدود اور مہنگے ہوا کرتے تھے۔ فون کبھی کبھی اور خط کبھی نہیں ملنا ایک عام سی بات تھی۔ روز تو دور کی بات، مہینوں سالوں گزر جاتے اپنے عزیزوں سے بات ہوئے۔چلئے فلیش بیک سے واپس آتے ہیں اور آج کی بات کرتے ہیں۔ آج انپوں سے تو چھوڑیں پرایوں سے بات کرنا اتنا آسان ہوچکا ہے جس کی حد نہیں۔ بچپن میں ماں باپ بہت سی ایسی باتیں بچوں کو سکھاتے ہیں جو بڑے ہونے پر بچے یا تو بھول جاتے ہیں یا پھر ان باتوں کو یاد ہی نہیں رکھنا چاہتے ہیں جیسے ماں باپ بچوں سے کہتے ہیں کہ انجان لوگوں سے بات نہیں کرنی چاہئے مگر ہوا کچھ الٹ یعنی آج کل کے نوجوان جاننے والوں سے کم انجان لوگوں سے زیادہ باتیں کررہے ہیں۔ ہم بات کررہے ہیں انٹرنیٹ کی، ان ویب سائٹس کی جہاں لوگ جاکر اپنے اپنے پروفائل بناتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کو زبردستی دوستی کرنے پر مجبور کرتے ہیں، یعنی مان نہ مان میں تیرا مہمان۔face book، my space، orkut اور نجانے کیا کیا یہ ہیں ان ویب سائٹس کے نام جہاں آج کل ہر کوئی بلا کسی ڈر کے اپنا پورا پورا شجرہ لکھ دیتا ہے۔ نہیں نہیں صرف شجرے سے ہی دل نہیں بھرتا، لوگ اپنی کئی کئی تصویریں ڈالتے ہیں، کیا، کیوں اور کس لئے کس کے بارے میں سوچتے ہیں، سب لکھتے ہیں۔ گھر میں کون کون ہے اور کون نہیں ہے اور کون ہے جو نہیں ہونا چاہئے، سبھی کچھ دیتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ یعنی ایک انجان شخص کو یہ سب جاننے کیلئے کیا چاہئے؟ تو اس کا جواب ہے 10 ڈالر مہینے کا انٹرنیٹ اور بہت سا فضول وقت، بس اگر آپ کے پاس یہ دونوں چیزیں ہیں تو پھر آپ کو کسی بھی انجان نوجوان کے بارے میں وہ کچھ پتہ چل سکتا ہے جو شاید جان پہچان ہونے پر بھی آپ کبھی نہیں جان پاتے۔چلئے شروع سے شروع کرتے ہیں۔ دنیا کی سب سے پہلی سوشل نیٹ ورک کے نام پر 1998ءمیں کھلنے والی ویب سائٹ کا نام تھا myspace.com.... چین میں ایک دفعہ ایک پاگل بھاگتا جا رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر ایک دوسرا شخص بھی اس کے پیچھے بھاگنے لگا۔ پھر تیسرا اور اس طرح کچھ ہی گھنٹوں میں ہزاروں لوگ ساتھ ساتھ بھاگتے نظر آئے۔ اتنے لوگ ہونے کی وجہ سے کئی لوگوں کی کچلنے کی وجہ سے موت ہوگئی۔ اگست 2006ءمیں myspace پر ہالینڈ کے ایک نوجوان نے اپنا پروفائل بناکر myspace کے ممبرز کی گنتی پورے 100 ملین کردی یعنی وہ 300 ملین لوگ جو انٹرنیٹ روز استعمال کرتے ہیں، ان میں سے 100 ملین کو کروڑوں بیلوں سے کوئی ڈر نہیں ہے اسی لئے وہ تلے ہوئے ہیں کہ آبیل مجھے مار۔اس ویب سائٹ پر جاتے ہی سب سے پہلے یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ کس شخص کو ڈھونڈنا چاہتے ہیں؟ کھویا تو کوئی نہیں تھا لیکن پھر بھی چلئے فرض کرلیں کہ ہم وہاں ”قدوس“ لکھ دیتے ہیں تو دنیا میں جتنے بھی قدوس جنہوں نے اس ویب سائٹ پر اپنا پروفائل بنایا ہے، آکر ہمارے سامنے سکرین پر جمع ہوجائیں گے۔ ہر قدوس کو ہماری انگلی کے ایک اشارے کا انتظار اور وہ اپنی ساری زندگی کھول کر ہمارے سامنے رکھ دے گا۔ ہم اپنی انگلی سے ماﺅس کے بٹن کو ایک پروفائل پر کلک کرتے ہیں تو سب سے پہلے قدوس صاحب کی ان کے حساب سے مسکراتی حسین تصویر آتی ہے، وہاں صرف انکی شکل ہی نہیں بلکہ عقل بھی دیکھی جاسکتی ہے یعنی ان کی کھلی کتاب زندگی ہمیں ایک ہی صفحے پر نظر آرہی ہوتی ہے۔ نام، کام، دام، عمر، کمر کچھ لکھنے سے نہیں چوکتے۔ قدوس صاحب اپنے بارے میں اور کوئی کسر رہ جاتی ہے تو وہ پوری کرتے ہیں، ان کے دوست۔قدوس صاحب کی فرینڈز لسٹ جی ہاں، وہ لوگ جو قدوس صاحب کو جانتے ہیں، ان کی فہرست سامنے نظر آرہی ہوتی ہے۔ قدوس صاحب کیا کیا کمال دکھا سکتے ہیں، وہ سب ان کے دوستوں نے وہاں پوری دنیا کیلئے چھوڑ رکھا ہوتا ہے۔ وہ کمال کے کرکٹر ہیں، غضب کے ایکٹر ہیں، بہت اچھی باتیں کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ زیادہ تر لوگوں نے اتنی تعریف لکھی ہوتی ہے کہ لگتا ہے کہ شاید آگے کہیں لکھا ہوگا کہ قدوس صاحب اُڑ بھی سکتے ہیں۔ اب وہ اصل میں اُڑ سکتے ہیں یا نہیں مگر انہوں نے کافی چیزیں لکھ چھوڑی ہوتی ہیں اپنا مذاق اڑوانے کیلئے، مثلاً میں مائیکل جیکسن کی طرح ڈانس کرسکتا ہوں، رفیع کی طرح گا سکتا ہوں، شیخ رشید کی طرح سیاست کرسکتا ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ کوئی اپنے گھر کا دروازہ بند کرکے کیسے پوری دنیا کے سامنے اپنی زندگی کھول سکتا ہے، اس کا مظاہرہ دیکھنا ہو تو آپ ضرور ان ویب سائٹس پر جائیے گا۔ اگر آپ کو اس طرح کی ویب سائٹس کا کوئی بھی فائدہ سمجھ میں آسکے تو ہم کو ضرور بتائیے گا۔ رابطہ کرنے کیلئے myspace پر وجاہت علی عباسی سرچ کرلیجئے گا۔٭٭٭
Saturday, April 19, 2008
Friday, April 18, 2008
Wajahat Kaa Hai Andaz-e-Bayan Aur By Qamar Ali Abbasi
Printed in Urdu Times Newspaper (April 16th 2008 edition)
وجاہت کا اندازِ بیاں اور!
اور پھر بیاں اپنا .... قمر علی عباسی
ہم امروہہ میں پیدا ہوئے تھے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب بچہ پیدا ہو کر
ہم امروہہ میں پیدا ہوئے تھے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب بچہ پیدا ہو کر
پہلی بار روتا ہے ردیف قافیے کا خیال رکھتا ہے۔ یہ صحیح ہو یہ نہ ہو لیکن ایک بات ضرور ہے کہ امروہہ کے پانی میں شاعری، افسانہ نگاری اور ادب کے جراثیم بہتات میں ہوتے ہیں۔ دروغ بر گردن راوی مشہور ہے جو اس علاقے سے ایک بار گزر جائے برسوں ”مرضِ ادبی“ میں مبتلا رہتا ہے۔امروہہ آم اور روہو مچھلی سے مل کر بنا ہے۔ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے دہلی سے 50 میل دور اور مراد آباد سے 19 میل کے فاصلے پر اس شہر میں لوگ کم اور شاعر زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ باغوں، کھیتوں اور سوت ندی کا علاقہ ہے۔ ہمیں اس شہر میں پیدا ہونے کا اعزاز ہے۔ نجانے ہمیں پہلی مرتبہ ہاتھ میں لینے والی دایہ گنگنا رہی تھی یا افسانوی زبان بول رہی تھی ممکن ہے گھٹی میں قلم کی نوک ڈال دی ہو۔ کچھ بھی ہو جب ہوش آیا اپنے چارں طرف لوگوں کو پڑھتے لکھتے اور لفظوں کو اکٹھا کرتے دیکھا۔ پھر نجانے کب ہوا، کیسے ہوا، ہم نے بھی قلم ہاتھ میں لیا، نہ کسی بزرگ کو لکھ کر دکھایا نہ اسے اس قابل سمجھا کہ کوئی دوسرا پڑھے لیکن قدرت کا اصول ہے جب پھول کھلتے ہیں ،بارش ہوتی ہے، پرندے ایک ڈار بنا کر اڑتے ہیں تو نظر آتے ہیں۔ہمارے والد نے پاکستان کو قبول کیا اور اپنے محکمے کی طرف سے نئے ملک میں آگئے۔ ماحول بدل گیا۔ عبداللطیف بزرگ امروہہ کے مکانوں گلی کوچوں میں رہ گئے لیکن جتنا امروہہ کا پانی پیا تھا اپنے سینے میں اس کی ہوا داخل کی تھی وہ رہ گئی۔ ہمارا خاندان سندھ میں آکر بسا۔ یہ روایتوں کی، ثقافتوں کی اور شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی شاعری کی وادی ہے۔ ہم اس ماحول میں سانس لینے لگے اور پھر امروہہ کا پانی بزرگوں کا ورثہ ہمیں مل گیا۔ 55 سال پہلے ہم نے لفظوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا، جانے ان میں تاثیر تھی، کشش تھی یا صرف لفظ تھے یہ کبھی نہیں سوچا۔ زندگی سفر کا نام ہے۔ ہندوستان سے پاکستان اور پھر کولمبس کے دریافت کئے ہوئے ملک امریکہ آگئے۔ یہ سرزمین خوش نصیبی اور کامیابی کی کلید سمجھی جاتی ہے۔ یہاں آکر لوگ معاشی سرگرمیوں میں ڈوب جاتے ہیں اور جب سر باہر نکالتے ہیں تو زمانہ بدل چکا ہوتا ہے۔ وہ بچے جو اپنے ساتھ اپنی زبان بولتے ہوئے لاتے ہیں صرف انگریزی بولنے لگتے ہیں، یہ حالات اور وقت کا تقاضا ہے۔ہم اپنے خاندان، اپنے بزرگوں سے کبھی شرمندہ نہیں ہوئے، ان کے راستے پر چلے ان کی روایات برقرار رکھیں، وہ جس بات پر فخر کرتے تھے ہم نے اسے آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ ہم ددھیال، ننھیال اس بات پر ناز کرتے تھے کہ ان کے خاندان کے لوگ ادب میں دور تک جاتے ہیں۔ ہم نے اس راستے پر چلنے کی کوشش کی۔ دل میں ایک دبی دبی خواہش تھی کیا ہمارے خاندان کی صدیوں پرانی روایات ہمارے ساتھ سو جائیں گی؟ ہماری بڑی بیٹی ثوبیہ نے انگریزی میں لکھنا شروع کیا اور یہ سلسلہ ٹوٹ ٹوٹ کر جاری رہا لیکن یہ سب کچھ اس زبان میں تھا جس سے ہمارے بزرگ کبھی خوش نہیں تھے۔ چھوٹی بیٹی ماریہ نے بھی انگریزی میں لکھا۔ ایک دن ہم نے اپنے بیٹے وجاہت علی عباسی سے کہا ہماری ایک خواہش ہے تم اس راستے کو بند نہیں ہونے دینا جس پر ہمارے بزرگوں نے صدیوں کا سفر کیا ہے۔ ہمارا خیال تھا دنیا میں ہر خواہش پوری نہیں ہوتی۔ کتنے ایسے پھول ہیں جو ان دیکھی وادیوں میں کھل کر وہیں زندگی بِتا دیتے ہیں ان کا رنگ او ر مہک کوئی نہیں دیکھتا۔جب اللہ مہربان ہو، روشنی پھیلانا چاہے تو خواہشیں حقیقت بن جاتی ہیں۔ ہمارے بیٹے نے ایک کالم لکھا۔ ہم نے حیران ہو کر پڑھا اور اس کے ہر لفظ سے احساس ہوا کہ اس کے جسم میں امروہہ دوڑ رہا ہے۔ خاندان کے بزرگوں کی روایات اور ان کے قلم کی روشنائی گردش کر رہی ہے۔ ہم حیران تھے لفظوں کی تتلیاں مشکل سے ہاتھ آتی ہیں، لفظ کب قابو میں آتے ہیں۔ ہوا میں اڑتے پرندے اس طرح گرفت میں نہیں آتے لیکن وجاہت علی عباسی کا ہر لفظ اور ہر جملہ کہہ رہا تھا ”میں آپ کا بیٹا ہوں، امروہے کا بیٹا ہوں اور اپنے بزرگوں کا جانشیں ہوں“۔ سیاستدان کا بیٹا کسی کوشش کے بغیر رہنما بن جاتا ہے، جاگیردار کا فرزند پیدا ہوتے ہی جاگیردار بن جاتا ہے لیکن لفظوں کو جمع کرنے والا، انہیں اپنے جذبات و احساسات سے بھرنے والا بننا ایک مشکل کا ہے۔ کسی شاعر کا بیٹا وراثت میں شاعری حاصل نہیں کر سکتا، کسی افسانہ نگار کے بیٹے کو جائیداد میں باپ کا قلم نہیں مل سکتا۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ہے اور صرف جب اللہ چاہتا ہے تو علم و آگہی دیتا ہے۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے خاندان اور گھر سے ایک چراغ روشن ہوا ہے۔زندگی میں کچھ ایسے دن ہوتے ہیں جو ہمیشہ تروتازہ اور مہکتے رہتے ہیں۔ 5 اپریل 2008ءکا دن ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ ہمارے بیٹے وجاہت علی عباسی کے کالموں کے مجموعے ”انداز بیاں اور“ کی تقریب پذیرائی تھی۔ ہمیں اس تقریب میں آنےوالے سب لوگ بہت اچھے لگے جنہوں نے تقریریں کیں، کتاب خریدی۔ وہ ہمارے دل میں آئے اور ہمارے ہو گئے۔ ہم اس موقع پر صرف ایک ہی بات کہہ سکتے ہیں ہمارے بیٹے وجاہت علی عباسی کا واقعی ”انداز بیاں اور ہے“۔
Raju Ban Gaya Gentleman By Wajahat Ali Abbasi On His Book Launch
راجو بن گیا جنٹلمین
وجاہت علی عباسی
کرچی کی وہ شور مچاتی گرم دھوپ کے ڈھلتے دھبے سے اسی شام کا آ جانا جو روز ہمیں اس بات پر قائل کرتی کہ یہ شام اس شہر کا مزاج ہے سورج کا اتار چڑھاﺅ نہیں وہ سڑکوں پر بسوں میں لٹکتے گھر لوٹتے لوگ....گلیوں سے واپس جاتے ٹھیلے والے....بچوں کا میدان میں کرکٹ جلدی جلدی اس ڈر سے کھیلنا کہ شام جلدی نہ گزر جائے.... مٹھائی کی دکان کے باہر سموسے اور جلیبی خریدنے والوں کا گرم سموسے کا انتظار کرنا اور پنچھیوں کا اپنے اپنے گھر کی طرف لوٹ جانا.... کچھ اسی طرح میرا شہر روز اپنی شامیں مناتا۔میں اور میرا دوست انصب روز شام اپنے محلے کی چھت پر جا کر بیٹھتے‘ وہ ہماری باتیں شاید کہیں بھی بیٹھ کر کی جا سکتی تھیں لیکن چھوٹی سی زندگی رکھنے والی اس شام کے ساتھ بھرپور وقت گزارنے کی چاہت صرف چھت پر بیٹھ کر پوری ہوتی۔ ہماری بلڈنگ سے تھوڑی دور مگر صاف نظر آنے والا قائداعظم کا مزار شام میں اور بھی حسین لگتا۔ شاید یہ محض اتفاق تھا مگر محلے کی چھت پر ہم کہیں بھی بیٹھ جائیں مجھے اور انصب کو ایسا لگتا جیسے قائداعظم کا مزار ہمارے ساتھ ساتھ ہے۔ ہم دونوں روز شام کئی کئی گھنٹے قائداعظم کے مزار کے ساتھ تکون بنائے بیٹھے باتیں کرتے۔کہتے ہیں کہ انسان اپنی محبت سے جانا جاتا ہے اور ہماری محبت اس شخص کی تھی جو دنیا کے سب سے عظیم انسانوں میں سے ایک تھا۔ ہم بہت باتیں کرتے تھے‘ قصے کہانیاں‘ ہنستے مسکراتے۔ سب چلتا لیکن پھر ہم پر محبت کا اثر ہونے لگا‘ ہماری سوچ کا جھکاﺅ ”میں“ سے ”ہم“ اور پھر ”ہمارے“ میں بدل گیا.... ہمارا پاکستان....ہم پاکستان کے لیے ضرور کچھ کریں گے۔ ہر دوسرے دن ہمیں کسی بھی دوسری بات سے زیادہ مزہ آتا‘ یہ بات کرنے میں کہ پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے ہم کیا کیا کر سکتے ہیں۔ وہ شامیں جو ہماری عمر کے کئی نوجوان سمندر کے کنارے جاتے یا اپنے دوستوں کے ساتھ گاڑیوں میں گھومنا پسند کرتے میں اور انصب چھت کی زمین پہ بیٹھ کر ہوا میں اڑنے کا ارادہ کرتے۔وہ شام مجھے آج بھی یاد ہے جب میں کئی سال پہلے محلے کی چھت پر آخری بار گیا تھا‘ میں امریکہ جا رہا تھا آنے والی صبح میرے لیے ایک نئی زندگی لا رہی تھی وہ آخری شام کے ڈھلتے میں نے قائداعظم کے مزار کو دیکھتے دل ہی دل میں ایک وعدہ کیا کہ آپ کا یہ بیٹا کبھی اپنی محبت نہیں بدلے گا جہاں بھی جاﺅں گا میں پاکستانی ہی رہوں گا اور اب اس چھت پر تب واپس آﺅں گا جب میں اپنی اس بات کوصحیح ثابت کر سکوں‘ اس چھت پر میرے دوست محبت ہی نہیں میری عادت بھی تھے وہاں سے آنا مشکل تھا لیکن میں رویا نہیں روتے وہ ہیں جو کچھ کھو دیتے ہیں اور میں وہاں سے بہت کچھ پا کے جا رہا تھا۔پچھلے ہفتے میری کتاب ”انداز بیاں اور“ کا افتتاح نیویارک میں ہوا سب سے پہلے انصب اسٹیج پہ بولنے کے لیے آیا اور اس نے شروع کیا یہ کہتے کہ ”ہم کراچی میں چھت پر بیٹھا کرتے تھے“ میں مسکرا دیا‘ لگا کہ زندگی اتنی زیادہ بدلنے کے باوجود ہم کامیاب ہوگئے اپنی محبت نہ بدلنے میں‘ میرے سامنے نیویارک کا اردو کا ہر بڑا ادیب‘ دانشور‘ شاعر اور اہم انسان بیٹھا تھا کئی ایسے لوگ جنہیں میں نے درجنوں تقریبوں میں بولتے سنا‘ جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا آج میرے لیے اسٹیج پر کھڑے بول رہے تھے۔میں ان سب لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مجھے میرا پہلا قدم آگے بڑھانے میں مدد کی ایک چھوٹے سے بچے کو اگر اتنے سارے مضبوط لوگوں نے ایک ساتھ تھاما ہوا ہو تو وہ کیسے گر سکتا ہے؟ میں نیویارک آ کر اکیلا کچھ نہیں کر پاتا اگر وہ سب لوگ نہیں ہوتے جو اس دن اپنی اپنی تقریر میں میری کامیابی کا سہرا صرف مجھے دے رہے تھے ۔میں زندگی کی کامیابیوں میں چاہے جتنا بھی آگے نکل جاﺅں لیکن وہ لوگ جو میری پہلی کتاب کی تقریب میں موجود تھے میرے آگے بڑھتے ہر قدم کے ذمے دار ہوں گے۔پوری دنیا کے سبھی اردو اخباروں اور WEB SITE پر میری کتاب کی جتنی بھی کوریج آئی ہے میں اپنے پاس ضرور محفوظ کرکے رکھوں گا کیونکہ اس بار میں کراچی جاﺅں گا تو ضرور اپنے پرانے محلے کی چھت پر یہ چیزیں لیکر جاﺅں گا اور قائداعظم کے مزار کے سامنے وہ سب پڑھ کر سناﺅں گا‘ میں بتاﺅں گا کہ امریکہ میں رہنے والے پاکستانیوں نے کیسے مجھے قدم قدم چلنا سکھایا اور یہاں تک پہنچایا کہ میں ایک نام ”وجاہت“ سے آج پوری کتاب ہوگیا‘ میرے کئی سال پہلے دیکھے خواب کو سچ کرنے کا آپ سب کا شکریہ‘ پچھلی بار میں چھت سے اکیلا اترا تھا مگر اب میرے ساتھ ہزاروں لوگوں کا پیار ہے اس بار چھت سے نیچے اترتے چاہے میں جتنا بھی اونچا ارادہ کیوں نہ کر لوں میں جانتا ہوں کہ امریکہ کی پاکستانی کمیونٹی مجھے کبھی ہارنے نہیں دے گی۔
Thursday, April 17, 2008
Subscribe to:
Posts (Atom)






